بی ایم سی انتخابات : ای وی ایم میں گڑبڑی کا دعوی ، 600 لوگوں نے بامبے ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی

بامبے ہائی کورٹ میں داخل کئے اپنے حلف ناموں میں ان لوگوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے پسندیدہ آزاد امیدوار کو ووٹ دیا تھا، لیکن ان میں سے بہت سے لوگوں کے ووٹ اس کے پسندیدہ امیدوار کو ملے ہی نہیں۔

Apr 06, 2017 06:38 PM IST | Updated on: Apr 06, 2017 06:38 PM IST

ممبئی : پانچ ریاستوں میں حالیہ اختتام پذیر اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ای وی ایم میں خرابی کا الزام لگایا، جس کو لے کر سڑک سے ایوان تک کافی ہنگامہ آرائی کی ہوئی ۔اب ممبئی میں ہوئے بی ایم سی انتخابات میں بھی ای وی ایم میں گڑبڑی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ممبئی کے وكولا علاقہ میں 600 لوگوں نے باقاعدہ ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔

بامبے ہائی کورٹ میں داخل کئے اپنے حلف ناموں میں ان لوگوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے پسندیدہ آزاد امیدوار کو ووٹ دیا تھا، لیکن ان میں سے بہت سے لوگوں کے ووٹ اس کے پسندیدہ امیدوار کو ملے ہی نہیں۔ان لوگوں نے عدالت سے فریاد کی ہے کہ بی ایم سی انتخابات میں ان کے ووٹ چوری ہو گئے ہیں اور اس وجہ سے عدالت معاملہ میں مداخلت کرے ۔ طاہر شیخ اس معاملہ میں درخواست گزار ہیں۔

بی ایم سی انتخابات : ای وی ایم میں گڑبڑی کا دعوی ، 600 لوگوں نے بامبے ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی

photo : ANI

وكولا علاقہ کے وارڈ نمبر 88 میں 13 امیدوار میدان میں تھے ، جن میں نيلوتپل مرنال آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں تھے، جنہیں صرف 375 ووٹ ملے۔ یہاں سے شیوسینا کو کامیابی ملی۔ لیکن اب علاقہ کے 600 ووٹروں نے ایک حلف نامہ پر دستخط کر کے ، اپنے شناختی کارڈ کی فوٹوکاپی کے ساتھ، نام، پتہ اور موبائل نمبر لکھ کر ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔

انتخابات ہارنے کے بعد نيلوتپل مرنال کا دعوی ہے کہ انہوں نے بی ایم سی سے سرکاری معلومات مانگی، جس سے انہیں معلوم پڑا کہ کئی وارڈوں میں جنتے لوگوں نے حلف نامے پر دستخط کئے ہیں ، انہیں اس سے کم ووٹ ملے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز