رضا اکیڈمی اور آل انڈیا علما کونسل سمیت متعدد مسلم تنظیموں کی تین طلاق بل کی مخالفت ، احتجاج کا فیصلہ

مرکز کی بی جے پی حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ کے تعلق سے پیش کردہ بل کے خلاف آج کے دن کو یہاں ممبئی کے علماکرام نے یوم سیاہ قرار دیا اور کل جمعہ کو ملک بھر کی مساجد میں اس سلسلے میں طلاق ثلاثہ بل کی مذمت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Dec 28, 2017 11:23 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 11:23 PM IST

ممبئی : مرکز کی بی جے پی حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ کے تعلق سے پیش کردہ بل کے خلاف آج کے دن کو یہاں ممبئی کے علماکرام نے یوم سیاہ قرار دیا اور کل جمعہ کو ملک بھر کی مساجد میں اس سلسلے میں طلاق ثلاثہ بل کی مذمت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مسلمانوں کو طلاق ثلاثہ کے نقصانات سے آگاہ کرانے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

ممبئی کی بلا ل مسجد میں جامعہ قادریہ اشرفیہ،رضا اکیڈمی ،آل انڈیا سنی جمعیت علما،آل انڈیا علما کونسل ،مساجد کونسل اور دیگر مسلم تنظیموں کے ذمہ داران کی ایک میٹنگ کا انعقاد نامور عالم دین معین میاں کی صدارت میں کیا گیاجس میں طلاق ثلاثہ بل کی سخت مذمت کی گئی اورآج کے دن کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے اسے شریعت مطہرہ میں کھلی مداخلت قرار دیا گیا اور بہت جلد بل کے خلاف پُر امن احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شرکائے میٹنگ نے ایک جانب جہاں بل کی پُر زور لفظوں میں مذمت کی وہیں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی حکومت کی اس بل کے خلاف نہ صرف احتجا ج کیا جائے گا بلکہ اس کے خلاف قانونی جنگ بھی لڑی جائے گی۔

رضا اکیڈمی اور آل انڈیا علما کونسل سمیت متعدد مسلم تنظیموں کی تین طلاق بل کی مخالفت ، احتجاج کا فیصلہ

تین طلاق سے متعلق بل لوک سبھا میں پاس ہوگیا ہے : علامتی تصویر

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے معین میاں نے طلاق ثلاثہ بل کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ دین اسلام میں صریحاًمداخلت ہے اور قرآن کریم و حدیث کے خلاف ہے۔معین میاں نے کہا کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اس لئے ہمیں اس سے کوئی زیادہ امید نہیں ہے۔چونکہ حکومت نے اس بل کو منظورکرانے کا ذہن بنا لیا ہے بس اسے پارلیمنٹ میں عملی شکل دینا باقی ہے۔لہذا ہم اس دن کو یوم سیاہ قرار دیتے ہیں اورہم اس کے خلاف ملک گیر سطح پر پُر امن احتجاج کر کے اپنے غم وغصہ کا اظہار کر یں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذکورہ بل پیش کر کے نہ صرف مسلم دشمنی کا ثبوت دیا ہے بلکہ اس سے آئین ہند کے تحت جو آزادی دی گئی ہے اس کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔معین میاں نے کہا کہ اس قانو ن کے باوجود مسلمان شریعت مطہرہ کے مطابق ہی عمل کرے گا اور ملک کی مسلم خواتین کی اکثریت شریعت مطہرہ کے مطابق ہی عمل کرنا پسند کرتی ہیں۔انہوں نے ائمہ مساجد سے اپیل کی ہے کہ وہ طلاق ثلاثہ کے نقصانات سے مسلمانوں کو آگاہ کریں اور طلاق ثلاثہ کا راستہ اپنانے سے روکے لیکن اگر کسی شخص نے ایک نشست میں تین مرتبہ طلاق دی تو وہ طلاق ہوگئی۔لہذا حکومت شرعی فیصلے میں مداخلت نہ کریں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز