مسلمانوں سے عائلی معاملات کو عدالتوں کی بجائےدارالقضا اور شرعی پنچایتوں میں لے جانے کی اپیل

ایک ساتھ تین طلاق کے معاملہ پرحال ہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے فیصلہ نے مسلمانوں میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے ۔

Oct 17, 2017 09:43 PM IST | Updated on: Oct 17, 2017 09:43 PM IST

ناندیڑ : ایک ساتھ تین طلاق کے معاملہ پرحال ہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے فیصلہ نے مسلمانوں میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے ۔ اس سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے نہ صرف قانونی جنگ لڑی جا رہی ہے ، بلکہ سماجی طورپر بھی بیداری پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ اسی ضمن میں مراٹھواڑہ میں ان دنوں دس روزہ بیداری مہم چلائی جا رہی ہے ۔ مہم کے تحت ناندیڑ میں جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا ۔

پروگرام میں مقرر خصوصی کی حیثیت سےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹر ی مولانا عمری محفوظ رحمانی اور بورڈ کے رکن مولانا جنیدالرحمن قاسمی کو مدعو کیا گیا تھا۔ دونوں مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پرسنل لا بورڈ کی جانب سے چلائی جا رہی مہم کے اغراض و مقاصد کے بارے میں معلومات دی ۔

مسلمانوں سے عائلی معاملات کو عدالتوں کی بجائےدارالقضا اور شرعی پنچایتوں میں لے جانے کی اپیل

پروگرام کے دوران شریعت کے تحفظ کے لئے لوگوں سے اسلامی تعلیمات پر مکمل طورسے عمل پیرا ہونے کی اپیل کی گئی ۔ ساتھ ہی اپنےعائیلی معاملات کو عدالتوں میں لے جانے کی بجائےدارالقضاء اور شرعی پنچایتوں میں لے جانے کی اپیل کی گئی ۔ اجلاس کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے بنائی گئی نئی حج پالیسی پر بھی تنقید کی گئی او ر حج پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ۔

اجلاس کے دوران چند اہم قراردادیں بھی پیش کی گئیں اور ان کے منظوری کے سلسلے میں لوگوں سے دستخط بھی لئے گئے ۔تاکہ اس قرارداد کے ذریعہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے لڑی جا رہی قانونی لڑائی کی حمایت کا مدلل انداز میں اعلان کیا جا سکے اور حکومت کو شریعت میں مداخلت سے روکا جا سکے ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز