میڈیا تین طلاق کے معاملہ کو بیجا دے رہا ہے ہوا ، اسلام نے خواتین کواعلی اور ارفع حقوق عطا کئے : مسلم پرسنل لا بورڈ

Apr 09, 2017 09:32 PM IST | Updated on: Apr 09, 2017 09:32 PM IST

جے پور: اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو میراث کا حق، طلاق حق، املاک و جائیداد حق عنایت کیا اور شادی کے بعد کاروبار کا حق بھی دیا ہے۔ عورت کو ماں، بیوی، بیٹی کی حیثیت سے اعلی اور ارفع حقوق عطا کئے اور عزت و احترام سے سرفراز کیا۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے شمال ہند کی پانچویں تفہیم شریعت ورکشاپ میں کیا ۔ اس ورکشاپ میں 200 منتخب علمائے کرام اور 100 قانونی شخصیات نے شرکت کی۔ ساتھ ہی خواتین کے لئے الگ سے ورکشاپ رکھی گئی جس میں راجستھان کے مختلف علاقوں سے تقریباً 150 منتخب خواتین نے شرکت کی۔ اختتام پر خواتین کا ایک اجلاس عام صبح 10 بجے سے ایک بجے تک عید گاہ میں رکھی گئی، اس میں شہر بھر سے 20 ہزار سے زیادہ خواتین نے شرکت کی۔

آخر میں شام 7 بجے کے بعد میدان کربلا میں ایک عظٰم الشان اجلاس عام منعقد کیا گیا۔ جس میں جےپور و صوبے سے تقریباً دو لاکھ سے زیادہ عوام نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت مشہور عالم دین اور مفکر حضررت مولانا سید محمد ولی رحمانی (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے کی۔ اجلاس عام میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحما سکریٹری بورڈ، حضرت محمد فضل الرحیم مجددی سکریٹری بورڈ، ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی سکریٹری بورڈ اور ہندوستان بھر سے تشریف لائے بورڈ کے دیگر قائدین نے خطاب کیس۔ خواتین کا اجلاس بورڈ کے شعبہ خواتین کی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر اسما زہرا کے زیر نگرانی منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسلام میں خواتین کے بنیادی حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔مقررین نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلم معاشرہ میں جہیز کے نام پر شاید ہی کوئی واردات ثابت ہوئی۔یہ سب خواتین کے لئے اسلامی شریعت کی اعلی و ارفع خوبیوں اور خواتین کو شریعت کے ذریعہ بااختیار بنانے کی وجہ سے ہے۔

میڈیا تین طلاق کے معاملہ کو بیجا دے رہا ہے ہوا ، اسلام نے خواتین کواعلی اور ارفع حقوق عطا کئے : مسلم پرسنل لا بورڈ

file photo

تین طلاق کے مسئلے پر مسلم پرسنل لا بورڈ نے میڈیا کے ذریعہ مسلمان خواتین کے تعلق سے کئے گئے پروپیگنڈے اور تین طلاق کے خلاف اٹھائی جانے والی نام نہاد آواز کے ہوّے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ بورڈ نے اس مسئلے پر چار کروڑ سے زیادہ اصلی دستخط حاصل کئے گئے ہیں جن میں دو کروڑ سے زیادہ مسلم خواتین نے اس دستخطی مہم کو شریعت اور بورڈ کی موافقت میں پیش کیا ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شرعی قانون میں تبدیلی یا کوئی نیا قانون طلاق کے مسئلے کا قطعا حل نہیں ہے۔اینٹی ڈاؤری ایکٹ جس کی واضح ترین مثال ہے کیونکہ ملک بھر میں ہر گھنٹے خواتین جہیز یا اس سے متعلقہ اسباب کی وجہ سے مرتی ہیں یا مار دی جاتی ہیں۔ اس شرح میں مستقل اضافہ ہوتا جارہا ہے، سرکاری اعداد و شمار اس کے شاہد ہیں لہذا اس حساس ترین مسئلہ میں اخلاقی اعتبار سے بیداری پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مقررین نے جے این یو کی پروفیسر نویدتا مینن کے حوالے سے بیان کیا کہ انہوں نے یکساں سول کوڈ کے مسئلہ کے بابت کہا کہ موجودہ بحث کا مرکز سائرہ بانو ہے جس کو ڈاک کے ذریعہ طلاق دی گئی تھی اور اس کے وکیل نے تینوں متبادل طریقے جو دستور میں موجود ہیں کے استعمال کے بجائے پی آئی ایل کا سہارا لیا اور تین طلاق کو بنیادی حقوق کو پامال کرنے والا بتایا اور اب سائرہ بانو سستی شہرت کی چاہت میں میڈیا کی منظور نظر بن گی ہے اور مسلم سوسائٹی میں مردوں کی بالادستی پر تنقیدین کرتی پھر رہی ہے۔ اسلامی نکاح ایک معاہدہ ہے اور عورتوں کی حفاظت کا ضامن ہے اور مسلم پرسنل لا اس حوالے سے دنیا کے تمام تر قوانین کے مقابلے میں جدید تر اور افضل ہے جس کے ذریعہ خواتین کو ذاتی جائیداد کا حق حاصل ہے، نہ کہ ہندو قانون کی طرح جس میں جائیداد میں مشترکہ حصہ دار ہے، تنہا مالک نہیں ہے۔

میڈیا جو کہ مسلم معاشرہ کے اندر تین طلاق کے مسئلہ کو بیجار ہوا دے رہا ہے اور اس حقیقت کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جارہا ہے کہ سب سے زیادہ مسلم اکثریت والے ملک اور ایشین ممالک جن میں مذہبیت اور تہذیب و ثقافت کا زور ہے وہاں پر طلاق کا تناسب مغربی ترقی یافتہ ممالک کے بنسبت انتہائی کم ہیں۔ دنیا میں شرح طلاق کی ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں کوئی بھی مسلم اکثریت والا ملک شامل نہیں ہے۔ ہندوستانی پس منظر میں 2011 کی مردم شماری میں ان مسلم خواتین کا ڈیٹا جو کہ طلاق یافتہ ہیں یا معلق یا تنہا چھوڑی ہوئی ہیں، مسلمانوں میں دیگر اقوام کے مقابلہ میں کافی کم ہے اور ان معاملات میں تین طلاق کے اعداد و شمار نہ کے برابر ہیں۔ بورڈ کے عہدیداران نے اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی کہ اسلام سے قبل لوگ سیکڑوں ہزاروں کی تعداد میں بیویاں رکھا کرتے تھے اور یہ سلسلہ بیسویں صدی تک تمام تہذیبوں میں قابل قبول رہا لیکن اسلام نے تو اس پر قدغن لگاکر چار بیویوں تک کی شرائط کے ساتھ اسے محدود کیا ۔

یہ بات قابل تعجب ہے کہ مسلمان آج کی تاریخ میں ملک کی دیگر اقوام میں ایک سے زائد بیوی رکھنے کے معاملے میں سب سے کم ہیں۔ 1961 کی مردم شماری میں یہ اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں کہ تعداد ازدواج کے سلسلے میں مسلمانوں کا فیصد 5 اعشاریہ 7فیصد ہے اور ہندوؤں کا 5 اعشاریہ 8 فیصد، بدھشٹ کا 7 اعشاریہ 9 اور قبائلیوں کا 15 اعشاریہ 25 فیصد ہے۔ تب سے لیکر اب تک یہی تسلسل چلا آرہا ہے اور یہ محض پروپیگنڈہ اور بے بنیاد الزام ہےکہ ایک سے زائد شادی مسلم معاشرہ میں رائج ہے۔

ہندو لا کے مطابق ہندو معاشرہ میں تعداد ازدواج ممنوع ہے مگر اعداد و شمار کی روشنی میں ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دوسری بیوی قانونی بیوی نہیں ہے۔ جبکہ اسلام میں دوسری بیوی کو پہلی بیوی کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ اجلاس میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ مسلمانوں میں بیواؤں اور طلاق یافتہ خواتین کی دوسری شادیوں کی شرح دیگر اقوام کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے جس کا فیصد ہندوستان میں 35 فیصد سے لیکر 37 فیصد تک ہے۔ خواتین کی دوسری شادی کا مسلم معاشرہ میں عام رواج ہے۔

قانونی اعتبار سے ہر فرد کوبنیادی اور دستوری حقوق کے تحت ہر مذہبی طبقہ اپنے مذہب پر عمل کرسکتا ہے، اپنے مذہب کی اشاعت کرسکتا ہے، اپنے عقائد پر عمل کرسکتا ہے اور مذہبی معاملات کے انتظامی امور کا پور ا حق حاصل ہے ۔انہیں دستور کے آرٹیکل 29، 26، 25 کے تحت محفوظ کردیا گیا ہے اور جو خصوصاً 26 بی میں درج ہے۔

شادی اسلامی قانون میں ایک مقدس اور مذہبی عہد و میثاق ہے۔ اس لئے تمام معاملات اور اختلافات میں جو بھی اس سے متعلق ہیں ان کو دونوں فریقین کے مابین عہد و پیاں اور شرائط کے مطابق حل کیا جاتا ہے اور فریقین کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع خالص سول ڈسپیوٹ ہیں اور اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کو سول ٹرائل کے ذریعہ حل کیا جائے کیونکہ یہ ڈسپیوٹ حکومت کے کسی فرمان کی وجہ سے ہوا ہے اور نہ ہی کسی ایوان کے فیصلے کی وجہ سے اور نہ ہی دستور کی دفعہ 12 کی وجہ سے ہوا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قائدین نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ دور میں مسائل کو حل کرنے میں بورڈ کا بھرپور تعاون کریں اور عوام میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کو رفع کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور اس کے حقائق سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو واقف کرائیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز