قندھار طیارہ اغواہ کیس میں مسلم نوجوان کو راحت ، عمر قید کی سزا کے خلاف دائر اپیل سماعت کیلئے منظور

Apr 21, 2017 09:16 PM IST | Updated on: Apr 21, 2017 09:16 PM IST

ممبئی : 24 دسمبر 1991 کو نیپال کے شہر کٹھمنڈو سے دہلی جارہے طیارہ کو اغواہ کرکے افغانستان لے جاکر پاکستا ن کے مذہبی رہنما حافظ مسعود اظہر (جیش محمد چیف) اور اس کے دیگر ساتھیو ں کو چھڑانے والے معاملے میں پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ کی جانب سے عمر قید کی سزا پا نے والے ایک مسلم نوجوان کو آ ج اس وقت بڑی راحت حاصل ہوئی جب سپریم کورٹ نے اس کی اپیل کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے اسے جلد از جلد فیصل کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ یہ اطلاع آج یہا ں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کر نے والی تنظیم جمعیت مہاراشٹر (ارشد مد نی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بیچ کے جسٹس پیناکی چندرا گھوش اور جسٹس آر فالی نریمن نے عبدالطیف آدم مومن کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر سماعت کے دورا ن عمر قید کی سزا کے خلاف داخل کردہ اپیل کو سماعت کے لیئے قبول کرلیا۔

قندھار طیارہ اغواہ کیس میں مسلم نوجوان کو راحت ، عمر قید کی سزا کے خلاف دائر اپیل سماعت کیلئے منظور

سینئر ایڈوکیٹ امریندر شرن نے عدالت کو بتایا کہ حالانکہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ملزم کو عمر قید کی سزادی ہے لیکن ملزم کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ اسے شک کی بنیاد پر اور اس معاملے کی سازش میں حصہ لینے کے الزامات کے تحت سزاسنائی ہے جس کے خلاف ملزم نے اپیل داخل کی ہے جسے سماعت کے لیئے قبول کیا جائے اور اس پر جلد از جلدسماعت مکمل کی جائے کیونکہ فروری 2008 میں پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا۔

دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے دو رکنی بینچ نے اپیل کو سماعت کے لیئے قبول کرلیا اور معاملے میں سماعت ملتوی کردی۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ اس معاملے میں نچلی عدالت سمیت ہائی کورٹ نے مومن عبدالطیف، یوسف نیپالی اور دلیپ بھجالی کو عمرقید کی سزا سنائی تھی ، عبدالطیف کے اہل خانہ نے جمعیت سے رجوع کیا تھا اور عمر قید کی سزاکے خلاف اپیل داخل کرنے کی گذارش کی تھی جس کے بعد دفاعی وکلا سے صلاو مشورہ کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔

واضح رہے کہ طیارہ اغواہ کرنے والے پانچ افراد ابراہیم اطہر، سنی احمد قاضی، ایس اے سید، زیڈ آئی مستری، آر جی ورما (شاکر ) نے طیارہ کو افغانستا ن کے قندھار نامی شہر میں اتارا تھا اور مسافروں کی رہائی کے بدلے میں ہندوستانی پولس کی تحویل سے حافظ مسعود اظہر اور اس کے دیگر دو ساتھیو ں کو چھڑانے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس معاملے میں کی سازش میں حصہ لینے اور اغواہ کارو ں کی مدد رکرنے کے الزامات کے تحت عبدالطیف سمیت دیگر لوگو ں کو گرفتار کیا گیا تھا جن کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور انہیں نچلی عدالت اور ہائی کورٹ سے عمر قید کی سزاہوئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز