راجستھان : چوٹی کاٹنے کے الزام میں مسلم نوجوان کی بے رحمی سے پٹائی ، وائرل ہو رہا ہے ویڈیو

Aug 04, 2017 12:31 PM IST | Updated on: Aug 04, 2017 12:31 PM IST

سیکڑی : راجستھان کے سیکڑی میں ایک مسلم نوجوان کی پٹائی کا ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر کافی تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں بھیڑ ایک شخص کے ہاتھ پاؤں باندھ کر وحشیانہ طریقہ سے پٹائی کر رہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس کی بھیڑ نے پٹائی چوٹی کاٹنے کے الزام میں اس کی پٹائی کی ہے۔ ویڈیو کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ جس شخص کو بھیڑ مار رہی ہے وہ مسلم برادری سے تعلق رکھتا ہے۔خیال رہے کہ ان دنوں اترپردیش ، دہلی اور اجستھان میں چوٹی کاٹنے کی ایک افواہ پھیلی ہوئی ہے ۔ تاہم یو پی پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس طرح کا کوئی گینگ موجود نہیں ہے اور یہ محض ایک افواہ ہے ۔

اس ویڈیو کو نصیر احمد نام کے ایک فیس بک یوزر نے اپنے وال پر پوسٹ کیا ہے۔ نصیر احمد نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ویڈیو راجستھان میں بھرت پور کے سیکڑی کا ہے اور متاثرہ کا نام حافظ محمد مقیم ہے۔ چوٹی کاٹنے کا الزام لگا کر ہجوم نے اس شخص کی وحشیانہ طور پر پٹائی کی ۔ حافظ مقیم کو دماغی طور پر کمزور بتایا گیا ہے۔ فیس بک پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ابھی تک اس کے گھر والوں نے اس واقعہ کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کروائی ہے۔ اس ویڈیو کے اپ لوڈ ہونے کے 12 گھنٹوں کے اندر اندر ہی اسے تقریبا 5 ہزار لوگ شیئر کر چکے ہیں۔

راجستھان : چوٹی کاٹنے کے الزام میں مسلم نوجوان کی بے رحمی سے پٹائی ، وائرل ہو رہا ہے ویڈیو

ویڈیو پر لوگوں کے ڈھیر سارے تبصرے بھی آ رہے ہیں۔ لوگ اس کو مذہبی رنگ بھی دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ تاہم ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے یوزر نثار احمد نے یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ حافظ مقیم کی پٹائی کرنے والے لوگ کس مذہب کے تھے۔

آپ کو بتا دیں کہ ابھی دو دن پہلے ہی اترپردیش کے آگرہ میں ایک سن رسیدہ خاتون کو لڑکیوں کی چوٹی کاٹنے والی ڈائن بتا کر بھیڑ نے اتنی بے رحمی سے پٹائی کی تھی کہ اس کی موت ہوگئی۔ یہ خاتون بھی ذہنی طور پر بیمار بتائی جا رہی تھی۔

نوٹ : یہ ویڈیو سوشل میڈیا فیس بک کے ایک یوزر نصیر احمدکے پیج سے لی گئی ۔ نیوز 18 اردو اس کی صداقت کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز