پاکستانی فوج کو خفیہ دستاویزات مہیا کرانے کے الزام میں گرفتار دہلی کے مسلم نوجوان محمد اعجاز کی ضمانت منظور

Jun 30, 2017 05:19 PM IST | Updated on: Jun 30, 2017 05:19 PM IST

ممبئی: انڈین آرمی کے اہم دستاویزات پاکستانی فوج کو مہیا کرانے کے الزامات کے تحت گرفتار دہلی کے ایک مسلم نوجوان کو گذشتہ دنوں الہ آباد ہائی کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ گلزار اعظمی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ23 فروری2014کو انسداد دہشت گرد دستہ نے اندراجیت خوشاوا نامی شخص کو آفیشیل سیکریسی ایکٹ کی دفعات 3/4/5/9 کے تحت گرفتار کیا تھا اور اس پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس کے قبضہ سے ہندوستانی فوج کے اہم دستاویزات ضبط کیئے گئے تھے اور اس تعلق سے صدر بازار پولس اسٹیشن جھانسی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ 4ستمبر 2016کو راجدھانی ایکسپریس سے محمد اعجاز شاہ خان نامی نوجوان اس کے دیگر6 ساتھیوں کے ہمراہ سفر کررہا تھا جسے اے ٹی ایس نے دوران سفر ان الزامات کے تحت گرفتار کیا کہ وہ اندرجیت سے معلومات لیکر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو پہنچاتا تھا اور اس نے اندر جیت کے اکاؤنٹ میں پیسے بھی منتقل کئے تھے۔

پاکستانی فوج کو خفیہ دستاویزات مہیا کرانے کے الزام میں گرفتار دہلی کے مسلم نوجوان محمد اعجاز کی ضمانت منظور

ملزم اعجاز خان کی گرفتاری کے بعد ملزم کے اہل خانہ نے صدر جمعیت علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی صاحب سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی گذارش کرتے ہوئے انہیں قانونی امداد مہیا کئے جانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لئے جھانسی سیشن عدالت میں عرضداشت داخل کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا جس کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا جہاں ایڈوکیٹ انور حسین نے ملزم کی ضمانت عرضداشت پر بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کے کلیدہ ملزم کو پہلے ہی عدالت ضمانت پر رہا کرچکی ہے لہذا ملزم اعجاز کو بھی ضمانت پر رہا کیا جائے نیز انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سرے سے ہی ملزم کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس معاملے کے کلیدہ ملزم اندراجیت کو جانتا ہے جس کے قبضہ سے اے ٹی ایس نے فوج کے اہم دستاویزات ضبط کئے تھے۔

حالا نکہ سرکاری وکیل نے ملزم کو ضمانت پر رہاکیئے جانے کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ ملزم پر سنگین الزمات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہئے۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس سدھارتھ ورما نے ملزم کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ حالانکہ ملزم کو ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات ہائی کورٹ نے جاری کئے ہیں لیکن کاغذی کارروائی مکمل نہیں ہونے کی وجہ سے ابتک ملزم کی ضمانت پر رہائی عمل میں نہیںآسکی ہے نیز مقامی وکلا ملزمین کے اہل خانہ کے ساتھ ملکر بقیہ کارروائی مکمل کررہے ہیں اور امید ہیکہ ملزم کی جیل سے اگلے چند ایام میں رہائی ممکن ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز