دہشت گردی کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا پائے مسلم نوجوانوں کو ہائی کورٹ نے کیا بری

ممبئی۔ دہشت گردی کے الزامات کے تحت نچلی عدالت سے عمر قید کی سزا پائے دو مسلم نوجوانوں کو آج اس وقت بڑی راحت حاصل ہوئی جب اتر پردیش کی لکھنؤ ہائی کورٹ کی ایک دو رکنی بینچ نے جمعیتہ علماء4 مہاراشٹر کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ملک دشمن سرگرمیوں کے الزامات سے باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا۔

Jan 17, 2017 04:56 PM IST | Updated on: Jan 17, 2017 05:20 PM IST

ممبئی۔ دہشت گردی کے الزامات کے تحت نچلی عدالت سے عمر قید کی سزا پائے دو مسلم نوجوانوں کو آج اس وقت بڑی راحت حاصل ہوئی جب اتر پردیش کی لکھنؤ ہائی کورٹ کی ایک دو رکنی بینچ نے جمعیتہ علماء4 مہاراشٹر کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ملک دشمن سرگرمیوں کے الزامات سے باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا۔ البتہ ان نوجوانوں کے خلاف دھماکہ خیز مادوں کا ذخیرہ رکھنے کے الزامات کے تحت نچلی عدالت کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کے فیصلہ کی سماعت بعد میں کرنے کا حکم جاری کیا۔ گذشتہ پندرہ برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ان نوجوانوں پر اگر دھماکہ خیر مادہ رکھنے کا الزام ثابت بھی ہوجاتا ہے تو وہ با آسانی جیل سے رہا ہوجائیں گے کیوں کہ قانون کے مطابق اس الزام کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا محض دس برسوں کی ہی  ہوسکتی ہے۔

ان نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیتہ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں یہ اطلاع اخبار نویسوں کو دی اور بتایا کہ ملزمین سلیم قمر اور الطاف حسین کو14 جنوری2001کو اتر پردیش پولیس نے دھماکہ خیز مادہ رکھنے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے تحت گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضہ سے آر ڈی ایکس، زندہ کارتوس ، ٹائمر، بیٹری و دیگر مواد ضبط کرنے کا دعوی کیا تھا جس سے وہ رام جنم بھومی ایودھیا(فیض آباد) میں بم دھماکہ کرنا چاہتے تھے۔ فیض آباد کی خصوصی گنگسٹر عدالت نے الطاف حسین اور سلیم قمر کو تعزیرات ہند کی دفعات 121,122 کے تحت عمر قید کی سزاسنائی تھی اسی طرح دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 کے تحت دس سالوں کی سزاء تجویز کی تھی۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ نچلی عدالت سے ملی سزاؤں کے خلاف لکھنؤ ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی گئی تھی جس کی سماعت گذشتہ دو سالوں سے جاری تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس چوہان اور جسٹس اننت کمار نے ملزمین کو ایک جانب جہاں عمر قید کی سزاؤں سے بری کردیا وہیں دھماکہ خیز مادہ والے قانون کے تحت تجویز کی گئی دس سال کی سزا والے معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔ ملزمین کے مقدمات کی پیروی کے لئے صدر جمعیتہ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر دہلی سے ایڈوکیٹ عارف علی اور لکھنوء4 کے وکیل محمو دعالم کو مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے لکھنؤ ہائی کورٹ کے سامنے مدلل بحث کی جس کے بعد آج بالآخر ملزمین کو دی گئی عمر قید کی سزاؤں کو ختم کردیا گیا۔

دہشت گردی کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا پائے مسلم نوجوانوں کو ہائی کورٹ نے کیا بری

گلزار اعظمی نے کہا کہ عمر قید کی سزا سے بری کئے جانے کے بعد ملزمین کی اگلے چند ایام میں جیل سے رہائی ہوجائے گی اور بقیہ مقدمہ کی اپیل سے بھی انشاء اللہ ملزمین باعزت بری ہوجائیں گے۔ مقدمہ کے تعلق سے دفاعی وکیل عارف علی نے بتایا کہ انہوں نے لکھنوء4 ہائی کورٹ میں استغاثہ کی خامیوں کی نشاندہی کی جس کی بنا پر ملزمین کو عمر قید کی سزاؤں سے باعزت بری کردیا گیا۔ عارف علی نے بتایا کہ اس پورے معاملے میں استغاثہ نے سنگین غلطیاں کیں اور بے گناہوں کو ایک طویل عرصہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑنے پر مجبور کیا۔ انہو ں نے کہا کہ ملک دشمن سرگرمیوں کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی اجازت  (سینکشن) حاصل کرنا قانوناً ضروری ہے لیکن اس معاملے میں خصوصی اجازت حاصل نہیں کی گئی اور ایف آئی آر کی کاپی دو ہفتوں کے بعد عدالت میں پیش کی گئی جس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ملزمین کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ ایڈوکیٹ عارف علی نے کہا کہ دھماکہ خیز مادہ کے قانون کے اطلاق کے لئے جو اجازت نامہ حاصل کیا گیا تھا وہ بھی فرضی معلوم ہوتا ہے لہذا ملزمین جلد ہی دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 سے بھی باعزت بری ہوجائیں گے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز