مد کھیڑ نگر پریشد کی عمارت پر اردو میں نام لکھنے کی کانگریس نے کی مخالفت ، مسلمانوں میں شدید ناراضگی‎

نو منتخب صدرمجیب جاگیر دار نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نگرپریشدکی عمارت پر مراٹھی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی لکھنے کی تجویز پیش کی تھی ، لیکن اجلاس میں شریک کانگریسی کارپوریٹروں کی مخالفت کے سبب یہ تجویز مسترد ہوگئی ہے ۔

Apr 07, 2017 07:26 PM IST | Updated on: Apr 07, 2017 07:26 PM IST

ناندیڑ : ناندیڑ ضلع کے مدکھیڑ نگر پریشد میں اردو کے ساتھ نا انصافی کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے ۔ نگر پریشد کے نو منتخب صدرمجیب جاگیر دار نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نگرپریشدکی عمارت پر مراٹھی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی لکھنے کی تجویز پیش کی تھی ، لیکن اجلاس میں شریک کانگریسی کارپوریٹروں کی مخالفت کے سبب یہ تجویز مسترد ہوگئی ہے ۔ تجویز مسترد ہونے پرکانگریس کے رویہ سے مقامی مسلمانوں میں شدید ناراضگی پیدا ہوگئی ہے ۔

یوں تو کانگریس پارٹی خود کو مسلمانوں کا ہمدرد بتا تی رہی ہے اورمسلمانوںکی مادری زبان اردو کے ساتھ بھی ہمدردی کا دعوی کرتی رہی ہے، لیکن اس معاملے میں کانگریس کے دو چہرے سامنے آئیں ہیں ۔ اس کی ایک مثال ان دنوں مدکھیڑ نگر پریشد میں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ مد کھیڑ نگر پریشد کے صدر بلدیہ مجیب جاگیر دار نے بلدیہ کے پہلے ہی اجلاس میں ایک ایسی قرارداد پیش کی ، جس میں مانگ کی گئی تھی کہ مدکھیڑ نگر پریشد کی عمارت کے نام کو مراٹھی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی لکھا جائے ۔

مد کھیڑ نگر پریشد کی عمارت پر اردو میں نام لکھنے کی کانگریس نے کی مخالفت ، مسلمانوں میں شدید ناراضگی‎

تاہم مجیب جاگیردار کی قرارداد کی مخالفت کرنے والوں میں کانگریس کے ارکان پیش پیش رہے ، جس کی وجہ سے یہ قرارداد مسترد ہوگئی ہے۔ اس معاملہ میں مجیب جاگیر دار نے کانگریس کے نمائندوں کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور نہ صرف کانگریس کے نمائندے بلکہ خود اشوک چوہان کو بھی اس معاملہ میں جاگیردار نے گھیرنے کی کوشش کی ۔

قابل ذکر ہے کہ مدکھیڑ شہرمیں اردو جاننے والوں کی تعداد تقریبا 35 سے 40 فیصد ہے ۔ ایسے میں بلدیہ کی عمار ت پراردو میں نام لکھنا ضروری تھا ۔ بلدیہ کی عمارت پر اردو میں نام لکھنے کے بارے میں پیش کی گئی قرارداد کی مخالفت کیوں کی گئی ، اس بارے میں کانگریس کے سینئر کارپوریٹر بندے علی خان سے سوال کرنے پرانہوں نے اس سلسلہ جو جوا ب دیا ہے وہ اور بھی تعجب خیز تھا ۔

مدکھیڑ نگر پریشد کے17 کارپوریٹروں میں کانگریس کے 15 کارپوریٹر شامل ہیں ۔ مجیب جاگیر دارنے بلدیہ کے صدارتی انتخابات میں کانگریس کے امیدواروں کو شکست دی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیہ میں اکثریت ہونے کے باوجود کانگریس کو صدارتی عہدہ پر اپنے نمائندے کو بٹھانا ممکن نہیں ہوسکا ، جس کی وجہ سے کانگریس کے نمائندے اجلاس کے دوران مجیب جاگیر دار کی ہر معاملہ میں مخالفت کررہے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز