اتفاق رائے قائم ہونے پر ہی’ تین طلاق‘ پر کوئی قانون بنایا جائے گا: مختار عباس نقوی

ممبئی۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے یہاں کہا کہ مسلمانوں میں تین بار طلاق بول کر طلاق دے دینے کے چلن پر قانون تبھی بنایا جائے گا جب فریقین میں عام رائے قائم ہو جائے۔

Apr 15, 2017 09:01 AM IST | Updated on: Apr 15, 2017 09:02 AM IST

ممبئی۔  اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے  یہاں کہا کہ مسلمانوں میں تین بار طلاق بول کر طلاق دے دینے کے چلن پر قانون تبھی بنایا جائے گا جب فریقین میں عام رائے قائم ہو جائے۔ حج ہاؤس میں ایک پروگرام میں شامل ہونے کے لئے آئے نقوی نے کہا کہ تین طلاق ایک سنگین مسئلہ ہے، جو لوگ سنجیدہ نہیں ہیں انہیں اس پر چل رہی مثبت، تخلیقی بحث کو برباد نہیں کرنا چاہئے۔ باہر سے نہیں بلکہ کمیونٹی کے اندرسے ہی بہتری کی شروعات ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقوں سے ’تین طلاق‘ پر تجاویز آ رہی ہیں اور ہرفریق سے بحث چل رہی ہے۔

نقوی نے کہا کہ کچھ لوگ حمایت کر رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ سب صحت مند جمہوریت کا حصہ ہے۔ جہاں تک حکومت کا سوال ہے ہم تین طلاق پر کوئی بھی قانون بنانے سے پہلے اتفاق رائے کا انتظار کریں گے۔  یہ اچانک نہیں ہو گا۔ عمل جاری ہے۔ ' انہوں نے کہا، ' حکومت جو کچھ کرے گی، آئین کے دائرے میں کرے گی، لیکن 'تین طلاق' پر اتفاق رائے بنانا ہمارے لئے ترجیح ہے۔ ' اس ہفتے کی شروعات میں مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ 'تین طلاق'، 'نکاح حلالہ' اور بہویواہ جیسے چلن مسلم خواتین کے سماجی معیار اور ان کے وقار پر منفی اثر پڑتا ہے ۔

اتفاق رائے قائم ہونے پر ہی’ تین طلاق‘ پر کوئی قانون بنایا جائے گا: مختار عباس نقوی

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز