روہنگیا پناہ گزینوں کے تئیں آئینی واخلاقی ذمہ داری نبھائی جائے : نسیم خان

Sep 14, 2017 11:04 PM IST | Updated on: Sep 14, 2017 11:04 PM IST

ممبئی: میانمار (برما) میں مسلمانوں پر وہاں کی فوج و انتہاپسندوں کے مظالم نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں جہاں اس معاملے کی گونج سنائی دینے لگی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میانمار حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ روہنگیائی مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنائے وہیں اپنے ملک میں پناہ لئے ہوئے روہنگیائی پناہ گزینوں کو حکومت نے ملک سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا جو نہ صرف اخلاقی بلکہ آئینی طور پر غلط ہے۔ اس لئے صدر جمہوریہ اوروزیراعظم کو خط لکھ کر میں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنے ملک کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے روہنگیائی پناہ گزینوں کونہ صرف مکمل تحفظ فراہم کرےں بلکہ اپنے سفارتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے میانمار حکومت کو مجبور کرےں کہ وہ روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم بندکرے“۔

یہ باتیں آج یہاں سابق اقلیتی امور کے وزیر اور کانگریس کے سینئر مسلم لیڈر محمد عارف نسیم خان نے کہی ہیں جنہوں نے مذکورہ مطالبے پر مشتمل ایک مکتوب آج صدر جمہوریہ اور وزیراعظم کے نام روانہ کیا ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ بے سہارا اور پریشان حال پناہ گزینوںکی کفالت ہمارے ملک کی روایت رہی ہے اور آئین کی دفعہ ۴۱اور ۴۲ ہمیں اس کا حکم دیتا ہے کہ اپنے یہاں پناہ لئے ہوئے رفیوجیوں کے ساتھ ہم اچھا معاملہ کریں نیز ان کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

روہنگیا پناہ گزینوں کے تئیں آئینی واخلاقی ذمہ داری نبھائی جائے : نسیم خان

گزشتہ ماہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کے بعد تین لاکھ سے بھی زائد مسلمان نقل مکانی کرچکے ہیں ۔

اس سے قبل 1947سے لے کر 1971کے درمیان میں ہم نے 80لاکھ سے زائد رفیوجیوں کو اپنے یہاں پناہ دی تھی جو تبت، بنگلہ دیش، شری لنکا و مغربی پاکستان وغیرہ سے آئے تھے۔ یہ ہماری روایت رہی ہے کہ ہم نے رفیوجیوں کے ساتھ بہتر حسنِ سلوک کیا ہے اور ان کے اپنے ملک میں حالات بہتر ہونے سے قبل کسی کو بھی واپس بھیجنے میں زبردستی نہیں کی ہے۔ لیکن افسوس کہ اب اس روایت اور آئین میں دیئے گئے تحفظ کی پاسداری نہ کرتے ہوئے رہونگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی بات کہی جارہی ہے جبکہ پوری دنیا اس سے واقف ہے کہ میانمار میں ان کے ساتھ جانورں سے بھی بدتر سلوک کیا جارہا ہے۔ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں تک کو نہیں چھوڑا جارہا ہے، انہیں مارا کاٹا جارہا ہے، زندہ جلایا جارہا ہے اور انہیں وہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اس صورت حال نے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا ہے مگر ہمارا ملک جو میانمار کا پڑوسی بھی ہے، وہ اپنے یہاں پناہ لئے ہوئے پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی بات کررہا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ یہ نہ صرف آئینی بلکہ اخلاقی وانسانی نقطہ ¿ نظر سے انتہائی غلط اقدام ہوگا۔عارف نسیم خان نے مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل اس حلف نامے کی بھی مذمت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روہنگیائی مسلمانوں سے دہشت گردی کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ حلف نامہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر داخل کیا گیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز