میری بیوی ہندو ہے اور میں مسلمان ہوں ، لیکن یہ لو جہاد نہیں : نصیر الدین شاہ

Jun 02, 2017 02:53 PM IST | Updated on: Jun 02, 2017 02:53 PM IST

ممبئی : بالی ووڈ کے معروف ادکار ہ نصیر الدین شاہ کو ملک کے 'سمجھدار سلیبریٹیز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ نصیر الدین شاہ اور ان کی اہلیہ رتنا پاٹھک کئی سالوں سے تھیٹر اور فلموں سے وابستہ ہیں۔ اب ان تینوں بچے عماد، ویوان اور هبہ بھی فلموں اور تھیٹر میں اپنی جگہ بنا نے کی کوشش میں مصروف ہیں۔آج کے دور میں جب سوشل میڈیا پر مذہب، ذات اور ملک کو لے کر اتنا بڑے پیمانے پر عدم کا ماحول نظر آرہا ہے ، نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کے گناہوں کی سزا آج ہم سب جھیل رہے ہیں۔

ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں نصیر نے مذہب اور ملک کے حالات سے وابستہ اپنی سوچ کا کھل کر اظہار کیا۔ نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ بھلے ہی ان کی پیدائش ایک مسلم کنبہ میں ہوئی تھی، لیکن وہ مذہبی نہیں ہیں۔ ان کی بیوی رتنا بھی مذہب کو نہیں مانتی ہیں، اس لئے انہوں نے جب اپنے بچوں کا اسکول میں داخلہ کروایا تھا، تو داخلہ فارم میں 'مذہب والا باکس خالی چھوڑ دیا تھا۔انہوں نے طے کیا تھا کہ ان کے بچے مذہب کو مانیں یا نہ مانیں، اگر مانیں تو کون سے مذہب کو، یہ فیصلہ بچوں کا ہی ہوگا۔

میری بیوی ہندو ہے اور میں مسلمان ہوں ، لیکن یہ لو جہاد نہیں : نصیر الدین شاہ

لیکن نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ اب انہیں ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں کوئی ان کے یا ان کے بچوں کو پکڑ کر ان کے مذہب کے بارے میں سوالات نہ کرنے لگے۔ نصیر الدین شاہ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مولوی جی نے اس عمر میں انہیں بھی مذہب سے وابستہ کئی باتیں سکھائی تھیں۔ ان سے بھی کہا گیا تھا کہ سچا مسلمان وہی ہے جو داڑھی بڑھاتے ہیں  اور ٹخنوں سے اوپر پاجامہ پہنتے ہیں، لیکن ان کے خاندان میں کوئی بھی داڑھی نہیں رکھتا تھا۔ انہیں بچپن میں بتایا گیا تھا کہ ایسا نہ کرنے والا جہنم کی آگ میں جھلسےگا اور اپنے ہندو یا سکھ دوستوں کے جہنم میں جھلسنے کا خیال انہیں بہت پریشان کر دیتا تھا۔

آج کے دور پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ آج سے پہلے اس ملک میں کبھی بھی امن اور اتحاد پھیلانے والی سمجھداری بھری باتوں کو بزدلی یا غداری نہیں سمجھا گیا تھا۔ اگر ایک مسلمان ہو کر کوئی ہندوستان اور پاکستان کی دوستی کی بات کرتا ہے تو اسے پاکستانی کہہ دیا جاتا ہے۔ شاہ بتاتے ہیں کہ یہ بات انہیں انتہائی چونکاتی ہے کہ فیس بک پر نیوکلیئر جنگ سے وابستہ وارننگ کو تو بہت ہی کم لائکس ملتے ہیں ، لیکن اسلام مخالف باتیں بہت پسند کی جاتی ہیں۔

ملک کی تقسیم کے بعد جوان ہوئی نسل کے زیادہ تر لوگوں کی طرح بچپن سے انہوں نے مسلمانوں اور سکھوں کی آپسی دشمنی کی باتیں سنی تھیں۔ لیکن انہیں اپنے دوستوں کے درمیان کبھی بھی ایس بات کا احساس نہیں ہوا۔ نصیر الدین شاہ کے مطابق آج اس ملک میں جو ہو رہا ہے، وہ طویل عرصہ سے ہونا ہی تھا، جن ریاستوں میں لوگوں کو دیکھ کر ان کا مذہب بتانا مشکل تھا، پچھلے دس سالوں میں وہاں بھگوا کپڑے، تلک، داڑھی، حجاب اور ٹوپی کی کثرت نظر آنے لگی ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک ہے، لیکن جس طرح سے اپنے مذہب کا جھنڈا لهرانے کی ضد بڑھ رہی تھی، یہ تو ہونا ہی تھا۔

شاہ کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی زندگی میں یہ یاد نہیں ہے کہ کبھی ایسا ہوا ہو جب ملک کے تمام مسلمانوں کو غدار کہا گیا ہو یا ان سے کوئی وضاحت طلب کی گئی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو پہلے اسلام کو ہی صحیح طریقہ سے سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ پوری دنیا میں قرآن کو ہندوستان سے زیادہ کہیں پڑھا نہیں جاتا، لیکن پھر بھی یہاں کے لوگ قرآن کے بارے میں سب سے کم سمجھ پاتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز