مسلمانوں کی تعلیمی اور دیگر شعبوں میں بہتری کے تئیں وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی: غیورالحسن

Sep 16, 2017 04:29 PM IST | Updated on: Sep 16, 2017 04:29 PM IST

ممبئی۔  قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین غیورالحسن رضوی نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ تعلیم کے بغیر ان کی ترقی ممکن نہیں ہے اور دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نریندرمودی مسلمانوں کی تعلیمی ،معاشی اور سماجی ترقی کے لیے خصوصی دلچسپی لے رہے ،لیکن اقلیتی فرقے کو بھی اس جانب توجہ دینا چاہئے کیونکہ ان کی لیڈرشپ مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے تحت مختلف اسکیمیں ان تک پہنچانے میں ناکام رہی ہیں۔اس کا اظہار چیئرمین نے ممبئی کے دورے کے موقع پر ایک گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی حکومت اقلیتی فرقہ کی ترقی اورفلاح وبہود کے لیے کوشاں ہے، اس لیے مسلمانوں کوکسی بھی فکرمندی کے بغیرآگے بڑھنا چاہئے اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ بی جے پی سے دوری کم کریں اور اس سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ پارٹی کے قریب آئیں اور انہیں درپیش مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

غیورالحسن رضوی نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں ان کی کوشش رہی ہے کہ وہ اقلیتوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں اور انہیں بہتر طورپر حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ موجودہ حکومت اقلیتی فرقے کے مسائل حل کرنے اور ان کے لیے جاری اسکیموں کو بھرپورانداز میں نافذ کرنے کی پالیسی اختیار کرچکی ہے ،انہوں نے مسلم لیڈر شپ پر الزام عائد کیاکہ وہ اپنے لوگوں اور خصوصی طورپرمسلم نوجوانوں تک ان اسکیموں اور منصوبوں کو پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی جی مسلمانوں کے مسائل حل کرنے اور انہیں تعلیم ودیگر شعبوں میں بہتر سے بہتر سہولیات دلانے میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔بس ہمیں اب ضروری ہے کہ ہزاروں کروڑوں روپے جو اقلیتوں کے لیے جاری کیے جاتے ہیں ،انہیں اس کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے ۔اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی جانب سے ملت کے لیے ان سے جوکچھ بھی ہوسکے گا ،اسے بھر پور انداز میں کرنے کی کوشش کریں گے۔

مسلمانوں کی تعلیمی اور دیگر شعبوں میں بہتری کے تئیں وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی: غیورالحسن

قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین غیورالحسن رضوی: فائل فوٹو۔

ممبئی کے مسلم ادارہ اسماعیل یوسف کالج کی سینکڑوں ایکٹر قطعہ اراضی کو ملت کے واپس کرنے کے مطالبہ پر انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اعلیٰ لیڈر شپ کے سامنے یہ مسئلہ موثر انداز میں اٹھائیں گے بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ وزیراعظم نریندرمودی سے بھی اس بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے اور اس بارے میں ریاستی حکومت کے روبرومسئلہ پیش کرنے میں پہل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان اپنی گنگاجمنی تہذیب کے لیے مشہور ہے اوران کی کوشش ہوگی کہ زمینی سطح سے جڑے لوگوں کو آگے بڑھایا جائے۔ اسماعیل کالج،مہاراشٹر اقلیتی کمیشن ،مولانا آزادمالیاتی کارپوریشن اور اردوساہتیہ اکیڈمی کے چیئرمینوں کی جلد از جلد تقرری کے بارے میں کوشش کا انہوں نے وعدہ کیا کہ ان خالی عہدوں کو پُرکرنے کے نتیجے میں اقلیتوں کواحساس ہوگاکہ ان کی بہتری کے لیے سرکارکام کررہی ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کی توجہ برما کے مسلمانوں کے مسائل پر مبذول کرائی گئی تو انہوں نے یقین دلایاکہ برما یا میانمار کے مسلمانوں کے معاملہ میں ان کی کوشش ہوگی کہ وزیراعظم مودی جی اور خارجی امور کی وزیر شسما سوراج کے سامنے برما کے مسلمانوں کو پیش کریں تاکہ ان کے جان و مال کی حفاظت کی جائے۔اور خون خرابہ روکنے کی کوشش ہو۔ دہلی پہنچ کر ترجیحی بنیاد پر اس معاملہ کو اٹھائیں گے۔

غیور الحسن نے مزید کہا کہ وزیر اعظم مودی جی نے پہلی بار ایک عام آدمی کو موقع دیا ہے، اس سے قبل بیوروکریٹ اس عہدہ پر فائزہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بی جے پی کے دورحکومت میں ملک میں امن امان ہے،لیکن برما کے حالات سے مسلمانوں میں بے چینی ہے اور اس قتل عام کورکوانے کے لئے کوشش جاری رہیگی جبکہ اقلیتوں کے ذہن سے خوف وہراس نکالنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز