تین طلاق سے متعلق بل پر ایڈوکیٹ مجید میمن کی مرکزی وزیر مملکت قانون پی پی چودھری سے ملاقات

مرکز کی مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ کی روک تھام کے لیے ایک بل کے مسودے کو کابینہ میں منظوری دے دی گئی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ حکومت رواں پارلیمانی اجلاس میں بل کو قانونی شکل دینے کے لیے پیش کرے

Dec 20, 2017 07:37 PM IST | Updated on: Dec 20, 2017 07:37 PM IST

ممبئی: مرکز کی مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ کی روک تھام کے لیے ایک بل کے مسودے کو کابینہ میں منظوری دے دی گئی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ حکومت رواں پارلیمانی اجلاس میں بل کو قانونی شکل دینے کے لیے پیش کرے ، جس میں کئی قانونی پیچیدہ پائی جاتی ہیں اور اس تعلق سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) کے راجیہ سبھا میں رکن ایڈوکیٹ مجید میمن نے آج مرکزی وزیرمملکت برائے قانون وعدلیہ پی پی چودھری سے ملاقات کرکے تبادلہ خیال کیا اور کئی امور کی نشاندہی کی ۔اس کی اطلاع ممبئی میں ان کے دفتر کے جاری ایک اعلامیہ میں کی گئی ہے۔

مجید میمن نے مسٹرچودھری کو مطلع کیا کہ فوری طلاق ثلاثہ دینے کے سلسلہ میں حکومت نے بل بناتے وقت شرعی اموراور معاشرے پر پڑنے والے اثرات کا بغورجائزہ نہیں لیا ہے اور انہوں نے اس سنگین مسئلہ پر مرکزی حکومت کو عالم دین اور قانون دانوں سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کرنا تھا۔ اور اس کے بعد ہی اس قسم کا قانونی بل پیش کرنا تھا ،لیکن حکومت نے اس پہلو کو نظرانداز کردیا گیاہے۔اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان ممبران پارلیمنٹ کو ایک حکمت عملی تیار کرناہوگا۔وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ وہ ان نکات کو بل میں شامل کریں گے۔

تین طلاق سے متعلق بل پر ایڈوکیٹ مجید میمن کی مرکزی وزیر مملکت قانون پی پی چودھری سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ مذکورہ بل میں متعدد چیزیں واضح نہیں ہیں کیونکہ فوری تین طلاق دینے پر اگر شوہر کو تین سال کی جیل ہوجاتی ہے اور بیوی اور بچوں کا گزر بسر کیسے اور کہاں ہوگا ،اس کے حقوق کیا ہوں گے کیونکہ اس بل کے تحت طلاق واقع نہیں ہوگی تو اس کے اور بچوں کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں اس خاتون کو دلالت کا سامنا کرنا پڑے گا،اپنی اور بچوںکی کفالت کرنے کے لیے دشواری پیش آئے گی۔

مجید میمن نے مشورہ دیا کہ گھریلو تشدد کے تحت موجود قانون میں الزام لگائے جائیں ،ورنہ حالات مزید ابتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اگر بل میں یہ دفعہ ہو کہ تین طلاق واقع ہوگئی ہے تو مسئلہ نہیں پیدا ہوتا ہے ،لیکن بل کے تحت شادی برقرار رہتی ہے اورشادی برقرار رہنے کی صورت میں خاتون کو معاشرے میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ،وہ سسرال میں رہتی ہے تو اہل خانہ کا رویہ کیسا رہے گا ،ان چیزوں کو واضح نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے وزیر موصوف سے کہا کہ اس بل کو جامع اور عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

Loading...

ایڈوکیٹ مجید میمن نے کہا کہ22اگست 2017کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعدپانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ ایک بار میں زبانی طلاق ثلاثہ ناجائز اور آئین ودستور کے خلاف ہے اور وہ طلاق نہیں مانی جائے گی۔دستور کی دفعہ 141کے تحت یہ قانون نافد ہوگیا ہے کیونکہ پانچ میں سے تین ججوں کی اکثریت نے اسے منظوری دی ہے۔عدالت اس غیر اسلامی بھی بتایا ہے۔اس بات سے ہم متفق ہیں ،لیکن سرکار اس بات کو بھول رہی ہے کہ طلاق بدعت نہیں ہوتی ہے تو شادی برقرار رہتی ہے اور اس کے الزام میں شوہر جیل چلاجائے گا تو اس کے رشتہ دار او رشوہر کے شتہ دار کے ساتھ ساتھ معاشرے کا دباؤ رہیگا کہ عورت تین سال کیا کرے گی تو شوہر کو جیل سے باہر نکالنے کے لیے اسے ہی جدوجہد کرنا ہوگااسی طرح جرمانہ کی رقم بھی وہ جمع کرے گی۔اس سے قبل گزشتہ شب سابق وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان کی رہائش گاہ پر مسلم ممبران پارلیمنٹ کے ہمراہ ملاقات کی اوریہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بل کو دونوں ایوانوں میں پیش ہونے سے روکا جائے اور یہ مطالبہ کیا جائے کہ بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کوپیش کیا جائے۔

ہاں اگر یہ ہوکہ طلاق ثلاثہ کے ساتھ رشتہ ختم ہوگیا تو اس سے بیوی کے اخراجات وصول کیے جاسکتے ہیں ورنہ شادی برقرار رکھتے ہوئے ،شوہرکو جیل بھیجنے کا فیصلہ عملی طورپر ٹھیک نہیں ہے اور اس نے مسئلہ کومزید سنگین بنادیا۔جبکہ شرعی طورپربھی کئی مسائل پیدا ہوںگے ،اور شاہ بانو کیس جیسا معاملہ بن جائے گا۔جس میں بعد میں تشکیل دیئے گئے قانون کے تحت وہ عدت کے بعد نان ونفقہ کی حقدار نہیں ہوتی ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز