میڈیکل نیٹ امتحان میں اردو کی شمولیت پر سی بی ایس ای نے سپریم کورٹ میں داخل کیا کراس حلف نامہ

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامے کی کا پیاں درخواست گزاروں کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

Mar 25, 2017 09:25 PM IST | Updated on: Mar 25, 2017 09:25 PM IST

اورنگ آباد: میڈیکل میں داخلہ کیلئے قومی سطح پر ہونے والے نیٹ امتحان کی اردو میں سہولت کے تعلق سے آج سپریم کورٹ میں سماعت کی گئی ۔ سی بی ایس ای کی جانب سے عدالت میں ایک کراس حلف نامہ داخل کیا گیا ، جس میں واضح کیا گیا کہ 16 جنوری کو ہی تمام چیزیں واضح کردی گئی تھیں ۔ اس وقت تک نیٹ امتحان میں اردو کی شمولیت کے تعلق سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے 04 جنوری کو حکومت مہاراشٹر کا جاری کردہ مکتوب عدالت میں پیش کیا، جس میں نیٹ امتحان میں اردو زبان کو شامل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

سماعت کے دوران عدالت عظمی کے روبرو یہ بات بھی آئی کہ 08 دسمبر2016 کو نیٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا ، جس میں کنڑا زبان کو شامل کرنے کا اندراج ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کرناٹک حکومت نے 08 دسمبر تک کنڑا زبان کی شمولیت کی سفارش نہیں کی تھی ، بلکہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعدکرناٹک حکومت کی جانب سے کنڑازبان کی شمولیت کا سفارشی مکتوب روانہ کیا گیا ۔

میڈیکل نیٹ امتحان میں اردو کی شمولیت پر سی بی ایس ای نے سپریم کورٹ میں داخل کیا کراس حلف نامہ

وکیل کے مطابق یہ مکتوب 14 دسمبر کو روانہ کیا گیا ۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامے کی کا پیاں درخواست گزاروں کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ معاملہ کی اگلی سنوائی 31 مارچ کو ہوگی۔ درخواست گزار نےحکومت پر الزام عائد کیا کہ اس پورے معاملہ میں دانستہ طور پر حکومت اردو کو حاشیے پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز