مہاراشٹر میں نیٹ امتحان سے اردو کو ہٹایا گیا ، اردومیڈیم کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار

Jan 12, 2017 07:27 PM IST | Updated on: Jan 12, 2017 07:27 PM IST

ناندیڑ : مہاراشٹر میں نیٹ امتحان سے اردو کو ہٹادیا گیا ہے ، جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے ۔اردو میڈیم سے گیارہویں اور بارہویں میں زیر تعلیم طلبہ میں یہ احساس شدت سے پنپ رہاہے کہ انہیں میڈیکل اور انجینئرنگ میں کیریئر بنانے سے محروم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

میڈیکل اورانجینئرنگ جیسے پیشہ وارانہ کورسیز میں داخلہ کے لیے نیٹ کے امتحان میں کامیابی لازمی ہے ۔ لیکن اس معاملہ میں مرکزی حکومت نے اردو میڈیم کے طلبہ کے ساتھ تعصبانہ رویہ اپنایا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ الگ الگ ریاستوں کے سات زبانوں میں نیٹ کے امتحان دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے ، لیکن اس فہرست میں سے اردو کو ہٹا دیا گیا ہے ۔

مہاراشٹر میں نیٹ امتحان سے اردو کو ہٹایا گیا ، اردومیڈیم کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار

اردو سے نیٹ کا امتحان دینے کی سہولت ختم ہونے پر ریاست کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگیا ہے ۔ ناندیڑ کے طلبہ بھی اس مسئلہ کو لے کر شدید تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔

تعلیمی مسائل پر کام کرنے والی مختلف طلبہ اوراساتذ ہ تنظیمیں میں بھی اس مسئلہ پر تحریک چلارہی ہیں۔ آل انڈیا آئیڈیل ٹیچر ایسوسی ایشن کے ذمہ دران کا کہنا ہے کہ نیٹ سے اردو کو ہٹانا ایک سوچی سمجھی سازش ہے ، تاکہ اردو میڈیم کے طلبہ کو اس سے محروم کیا جاسکے ۔ بار بار گزارش کرنے پر بھی مرکزی حکومت اس مسئلہ کا حل نکالنے سے انکار کررہی ہے ۔

سچر کمیٹی، رنگنا تھ مشرا کمیشن اور محمو الرحمن کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کو تعلیمی اعتبار سے دیگر طبقات کے مقابلہ پیچھے ہونے کی تصدیق کی ہے اور مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں آگے لانے کے لیے خصوصی انتظامات اور سہولیات دینے کی سفارشیں کی ہیں ، لیکن موجودہ بی جے پی حکومت سہولتیں دینے کی بجائے پہلے سے ہی اردو میں نیٹ کا امتحان دینے کی دی گئی سہولت کو بھی چھین رہی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ مودی حکومت میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز