حج امبارکیشن پوائنٹ میں کمی، محرم کے بغیر خواتین کو مشروط اجازت نئی حج پالیسی کی اہم سفارشات

سفارشات میں نجی ٹورآپریٹروں کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کرنے اور سرکاری حج کوٹہ کو بالترتیب 70،30حج کمیٹی اور ٹورکمپنی کے درمیان تقسیم کرنے کی تجویز بھی رکھی گئی ہے۔

Oct 07, 2017 08:01 PM IST | Updated on: Oct 07, 2017 08:01 PM IST

ممبئی۔ سفر حج کے امبارکیشن پوائنٹ 21 سے گھٹا کر صرف نو (9) کر دینے اور 45 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو محرم کے بغیر چار خواتین کے گروپ میں سفر حج کرنے کی اجازت دینا اور محرم کے کوٹے میں اضافہ آج یہاں اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو پیش کردہ نئی حج پالیسی کی اہم سفارشات ہیں۔ حکومت ہند کے سابق سکریٹری افضل امان اللہ کی قیادت میں تشکیل کردہ ایک کمیٹی نے یہ تجاویز پیش کیں۔ جس میں حکومت ہند سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہندستانی عازمین حج کی پرواز کے سلسلے میں گلوبل ٹنڈر کی گنجائش پر سعودی حکومت سے بات چیت کرے۔ ایک تجویز یہ بھی رکھی گئی کہ ایئر انڈیا کی نجکاری کی صورت میں چونکہ حج آپریشن پر سنگین مضمرات مرتب ہوں گے لہذا وزارت اقلیتی امور اور حج کمیٹی آف انڈیا کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔

سفارشات میں نجی ٹورآپریٹروں کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کرنے اور سرکاری حج کوٹہ کو بالترتیب 70،30حج کمیٹی اور ٹورکمپنی کے درمیان تقسیم کرنے کی تجویز بھی رکھی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام علاقوں میں مسلم آبادی کے تناسب سے درخواستوں کی منظوری دی جائے گی۔ جنوبی ممبئی میں واقع حج ہاوس میں دوپہر یہاں مرکزی وزیر برائے اقلیتی اموراور حج مختار عباس نے حجاج کرام کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرانے کا عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر بحری جہاز کی شروعات کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ،البتہ کہا گیا کہ اس سلسلہ میں پالیسی مرتب کی جائے گی اور سعودی حکومت سے بات چیت کی جائے گی،جبکہ نئی پالیسی کے مطابق 70-30کے تناسب سے کوٹہ کی تقسیم حج کمیٹی اور نجی ٹورآپریٹرس کے درمیان ہو سکتی ہے۔ یہ پالیسی منظوری کے بعد پانچ سال کے لیے نافذ ہوگی۔ سفارشات غیر مبتدل طور پر منظور کر لی گئیں تو 21 کے بجائے صرف 9مقامات سے حجاج کرام کی آمد ورفت ہوگی ،ان میں نئی دہلی، ممبئی ،کولکتہ ،لکھنو ،احمدآباد، چنئی ،حیدرآباد، بنگلوراور کوچین شامل ہیں ۔

حج امبارکیشن پوائنٹ میں کمی، محرم کے بغیر خواتین کو مشروط اجازت نئی حج پالیسی کی اہم سفارشات

جنوبی ممبئی میں واقع حج ہاوس میں دوپہر یہاں مرکزی وزیر برائے اقلیتی اموراور حج مختار عباس نے حجاج کرام کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بند ہونے والے مراکز پر بنائے گئے حج ہاوس تربیت ، ورک شاپ ودیگر امور کے لیے استعمال کئے جائیں گے۔ بحری جہاز سے سفر کے لیے حکومت سعودی عرب سے گفت وشنید کی جائے اور کوشش ہوکہ اس کے لیے عالمی معیار کے جہازوں کا استعمال کیا جائے جوکہ 3-4دنوں میں سفر مکمل کرسکیں۔ بند کیے جانے والے ہوائی اڈّوں اور خصوصی طورپر سری نگر ،گوہاٹی ،گیا وغیرہ کے کرایے میں زبردست اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اس موقع پر افضل امان اللہ نے کہا کہ محرم کے کوٹہ میں 200سے 500 کردیا جائے گا اور جموں وکشمیر کے حاجیوں کی تعداد 1500سے بڑھا کر 2000کردی گئی ہے۔جبکہ پانچ سو سے کم درخواستیں آنے والی ریاستوں کے خواہشمند حضرات کو ترجیح دی جائے گی۔ اس سے انڈمان ونکوبار،لکش دیپ،دادرنگرحویلی،دمن ودیواور پڈوچڑی کےساتھ ساتھ چھتیس گڑھ ،گوا،ہماچل پردیش،اور منی پور ودیگر چھوٹی ریاستوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی پالیسی کے تحت 70سال کے عرضی گزار کو قرعہ اندازی کا سامنا کرنا پڑے گا اور مسلسل چار سال درخواست دینے  والے عازمین حج کودی جانے والی بلا قرعہ اندازی کی سہولت ختم کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اقلیتی امور کی وزارت نے17، 2013 کے لئے حکومت کی حج پالیسی کا جائزہ لینے اور حج پالیسی22 ، 2018کے لئے فریم ورک تیار کرنے اور تجویزپیش کرنے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی تھی جو 7 اکتوبر، 2017 کو مسٹرافضل امان اللہ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ،جس نےصدر حج کمیٹی، مسٹر چودھری محبوب علی قیصر، سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر جناب احمد جاوید، حج کمیٹی آف انڈیا کے دیگر ارکان اور اقلیتی  وزارت کے سینئر افسران کی موجودگی میں معزز اقلیتی امور کے وزیر مسٹر مختار عباس نقوی کو اپنی رپورٹ پیش کی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز