گجرات پبلک سروس کمیشن امتحان میں نیلو فر شیخ نے حاصل کی نمایا کامیابی ، والدین میں خوشی کی لہر

Aug 04, 2017 08:56 PM IST | Updated on: Aug 04, 2017 08:56 PM IST

احمد آباد :احمد آباد کی مشہور ایف ڈی ہائی اسکول میں پڑھنے والے طلبہ ہر سال ایک نئی بلندی پر پہنچتے ہیں اور ملک میں اپنا نام روشن کرتے ہیں ۔ اسی اسکول میں پڑھنے والی ایک طالبہ نیلوفر شیخ کے ڈپٹی کلکٹربننے کا خواب اب حقیقت میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ نیلوفر فی الحال ڈپٹی کلکٹر کے لئے ہونے والی ٹریننگ کے لئے جانے والی ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ نیلوفر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں وہ یو پی ایس سی کا امتحان بھی دیں گی ۔ نیلوفر کو ملی اس کامیابی سے جہاں مسلم برادری کے لوگوں میں خوشی کا ماحول ہے وہیں نیلوفر کہتی ہیں کہ اس ذمہ داری کے بعد اب پہلی ترجیح قوم کے لئے کچھ کام کرنی کی ہوگی ۔

احمد آباد کے جوہاپورا علاقہ میں رہنے والی نیلوفر نے ایف ڈی ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کر کے گجرات پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ واضح رہے کہ 2017 میں جی پی ایس سی امتحان میں پورے گجرات سے چار لاکھ بچوں نے اپلائی کیا تھا اور دو لاکھ سے زیادہ بچوں نے امتحان دیا تھا ۔ اس امتحان میں 12 ہزار بچوں کو کامیابی ملی تھی اور 8 ہزار سے زیادہ بچے مین امتحان تک پہنچے تھے ۔ ان میں سے 14 سو بچے انٹرویو کے لئے سلیکٹ ہوئے ۔ انٹرویو کے بعد 460 بچے پاس ہوئے ۔

گجرات پبلک سروس کمیشن امتحان میں نیلو فر شیخ نے حاصل کی نمایا کامیابی ، والدین میں خوشی کی لہر

واضح رہے کہ ان میں سے سات بچے مسلم ہیں اور ان میں سے نیلوفر ایک ہیں ۔ اس کامیابی کے بعد نیلوفر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ذہن میں اگر حوصلہ ہو تو منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ نیلوفر کی اس کامیابی سے اس کے گھر میں خوشی کا ماحول ہے ۔

جی پی ایس سی امتحان کے پہلے ٹرائل میں فرسٹ رینک سے کامیاب ہونے والی نیلوفر نے دن رات ایک کر کے یہ کامیابی حاصل کی ہے ۔ نیلوفر کو ملنے والی اس کامیابی کو لےکر ایف ڈی اسکول کے پرنسپل محمد حسین گینا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیلوفر پہلے سے ہی پڑھائی میں بہت ہوشیار تھی اور اسکول کی پڑھائی کے دوران بھی اسنے کئی گولڈ میڈل بھی حاصل کئے ۔

نیلوفر کی والدہ اس سلسلے میں کہتی ہیں کہ نیلوفر کی محنت سے اسے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ ہم نے ہمیشہ اس پڑھائی کے لئے مدد کی ہے ۔ مسلمانوں کو اب اپنی لڑکیوں کو تعلیم دینی چاہئے کیونکہ لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی والدین کا نام روشن کرتی ہیں ۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز