جن عناصر اور تنظیموں اور ملک کی آزادی سے کوئی لینا دینا نہیں ، وہ آج حب الوطنی کا درس دے رہی ہیں : نتیش

Apr 22, 2017 08:06 PM IST | Updated on: Apr 22, 2017 08:06 PM IST

ممبئی : آج یہاں بہار کے وزیراعلیٰ اور جنتادل یونائیٹڈ کے صدر نتیش کمار نے ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جن عناصر کا اور تنظیموں کاملک کی آزادی سے کوئی لینا دینا نہیں تھاوہ حب الوطنی کادرس دے رہی ہیں۔ ممبئی کے شمال مغربی مضافات گورے گاؤں میں ایکزبیشن ہال میں ایک جم غفیر سے خطاب کا آغاز مراٹھی میں کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ ملک کی بہتری اور اتحاد کے لیے امن وبھائی چارگی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کاملک کی آزادی میں کوئی حصہ نہیں تھا، وہ دیش بھکتی کا سبق پڑھارہے ہیں اور قومی پرچم کوپسند نہیں کرتے تھے، وہ اس کی اہمیت واحترام کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے شراب بندی کی مکمل وکالت کی۔

نتیش کمار نے کہا کہ ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔ محنت کش اور کسانوں کا بُرا حال ہے، سب سے زیادہ کسانوں کی خودکشی ہورہی ہے، یہ ایک سنگین دور ہے۔ مسٹر نتیش کمار نے دعویٰ کیا کہ بہار میں جس انداز میں کسانوں، مزدور، ملازمین، خواتین اور نوجوانان کے مسائل حل کرانے کے لئے پالیسیاں بنائی ہیں۔ اس کافائدہ ہرکسی کو مل رہا ہے، لڑکیوں کی سائیکل منصوبے سے ترقی کی راہ کھل گئی اورذہنیت میں تبدیلی بھی آئی ہے۔

جن عناصر اور تنظیموں اور ملک کی آزادی سے کوئی لینا دینا نہیں ، وہ آج حب الوطنی کا درس دے رہی ہیں : نتیش

شراب بندی کے فیصلہ کو حق بجانب قراردیتے ہوئے نتیش کمار نے پھرکہا کہ گزشتہ بار کامیابی کے بعد پہلا فیصلہ کیا گیا اور پانچ ہزار کروڑ روپے کے نقصان کااندازہ تھا، لیکن ریاست آمدنی میں معمولی فرق پڑا ہے۔ہم سماج کو آگے لے جانا جاتے ہیں اورانہوں اس تعلق سےچین کا حوالہ دیا کہ جب سےوہاں افیم پرپابندی عائد کی گئی ہے وہ ترقی کرگیا اور چین کامقابلہ کرنے کے لیے شراب اور دیگر نشے سے دور رکھنا ہوگا۔ انہوں نے شراب پر مکمل پابندی کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ منفی کوشش کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔کیونکہ شراب بندی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے جارج فرنانڈیز، شردرائو، مرنال گورے، مدھوڈنڈوتے اور دیگر شخصیات کو یاد کیا ۔کپیل پاٹل کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سب نے ان کی قیادت پر بھروسہ کیا اور یہا ں آپ کی موجودگی اس بات کاثبوت ہے۔ اس موقع پر مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے رکن کپیل پاٹل کو متفقہ رائے سے مہاراشٹر کا صدر منتخب کیا گیا۔انہوں نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں افراتفری کا عالم ہے اور شیوسینا ۔بی جے پی حکومت کئی محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔کسانو ں کی قرض معافی کے معاملہ میں حکومت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے اس کے لیے عوام اس کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔

کپل پاٹل نے کہا کہ بہار وہ واحد ریاست ہے جہاں کسان خودکشی نہیں کررہے ہیں اور اس کا اعتراف خود وزیراعظم مودی نے کیا ہے۔بہار میں شراب بندی کی بھی انہوں نے ستائش کی اور گھریلو خواتین نے راحت کی سانس لی ہے۔ کپل پاٹل نے کہاکہ مہاراشٹر کےکسانوں کو قرض معاف کیا جائے اوریہ نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔ ریزرویشن کا ذکر کرتے ہوئے کپیل پاٹل نے کہاکہ پہلے کانگریس ۔این سی پی حکومت نے اپنے آخری دورمیں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا اعلان کیا اور موجودہ حکومت نے بامبے ہائی کورٹ کے حکم کے باوجودتعلےمی میدان میں مسلمانوں کے حق کو چھین لیا ہے۔

جلسہ سے جے ڈی یو کے ترجمان شیام ر جک نے بھی خطاب کیا اور کہاکہ نتیش کمار ملک کے واحد رہنماءہیں، جنہوں نے بی جے پی کو حکومت میں آنے سے روک دیا ۔اب ضرورت یہ ہے کہ مستقبل میں حزب مخالف کی پارٹیوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اپوزیشن کی محاذ آرائی کی وجہ سے بچنا ہوگا اور متحدہوکر ان کامقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیتش کمار ملک کی قیادت کریں گے اور مہاراشٹر کے عوام امید سے دیکھ رہےہیں، جوکہ گاندھی کے نظریات رکھنے والے ہیں۔

اس سے قبل معروف صحافی حسن کمال نے کہا کہ جو حالات پیدا کیے گئے ہیں، اس سے باباصاحب امبیڈکر کے آئین کوخطرہ پیدا ہوگیا ہےاور اگر آئین ختم کردیا گیاتو ملک کی جمہوریت، سیکولرزم تباہ ہوجائے گا اور ملک کااتحاد پارہ پارہ ہوجائے گا- انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندرمودی روزانہ امبیڈکر کو اعزاز سے نواز رہے ہیں اور ناگپور کے اشارے پر آئین کونشانہ بنایا جارہا ہے-حسن کمال نے کسانوں کی صورتحال پرتشویش کا اظہار کیا۔اس موقع پر مختلف افراد نے جنتادل یونائیٹیڈ میں شامل ہونے کا اعلان کیا، ان میں ڈولفی ڈیسوزا، سبکدوش آئی اے ایس افسراروند گائیکواڑ، مزدور لیڈروشواس ریگی، ششانک راؤ اور فیروزمیٹھی بوروالاشامل ہیں۔اس موقع ایم ایل اے بہار شرف الدین، مہابل شیٹی اوردیگر لیڈران موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز