راجستھان : کسی ایکٹ اور قانون کے بغیر ہی چل رہے ہیں سبھی مدارس، 2 لاکھ 35 ہزار 680 طلبہ ہیں زیر تعلیم

Nov 19, 2017 07:12 PM IST | Updated on: Nov 19, 2017 07:13 PM IST

جئے پور : راجستھان میں 2 لاکھ 35 ہزار 680 طلبہ ایسے ہیں، جو مدرسوں میں تعلیم پارہے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے یہ طلبہ ایسے مدارس میں زیر تعلیم ہیں جن کیلئے ریاست میں کوئی قانون ہی نہیں ہے ۔ ریاستی یا مرکزکی کسی بھی حکومت نے مدارس کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا ہے، جیسا کہ نجی یا سرکاری اسکولوں کے لئے کیا گیا ہے۔

مدرسہ ایکٹ نہیں ہونے کی وجہ سے راجستھان کے مدارس کیلئے کوئی ایجوکیشنل کیلنڈر بھی نہیں ہے کہ کس دن چھٹی کریں گے اور کب سے کب تک مدرسے کھلیں گے۔ ان کا کورس کیا ہوگا اور کون فیصلہ کرے گا جو ماہر تعلیم ہو؟۔ دو سال پہلے جب مدرسوں کی جانچ کی تھی تھی تو ریاست کے انٹیلی جنس کے سیکشن اور آئی بی نے بھی اپنی رپورٹوں میں مدرسوں کے بغیر قانون چلنے کو انتہائی سنگین اور سنجیدہ مسئلہ قرار دیا تھا ۔

راجستھان : کسی ایکٹ اور قانون کے بغیر ہی چل رہے ہیں سبھی مدارس، 2 لاکھ 35 ہزار 680 طلبہ ہیں زیر تعلیم

ریاست کے سبھی اسکول راجستھان غیر سرکاری تعلیمی ادارے ایکٹ 1989 اور اس ایکٹ کے تحت 1993 میں بنائے گئے قوانین کے مطابق چلتے ہیں۔ لیکن مدارس نہ تو اس قانون کے تحت آتے ہیں اور نہ ہی ان کے لئے کوئی علیحدہ قانون ہے۔ وہ صرف انتظامیہ کے حکم سے چل رہے ہیں۔ مدارس اور مدرسہ بورڈ مدارس کے لئے ریاست میں کوئی قانون نہیں ہونے کی وجہ سے فی الحال مدارس 27 جنوری 2003 میں جاری ایک انتظامیہ حکم سے چل رہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ حکومت قانون بنانے کے بارے میں سنجیدہ ہے۔مگر یہ سچ ہے کہ آج کی تاریخ میں ان کے لئے کوئی قانون نہیں ہے۔

ایک طرف ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ٹیچرس کی سیلری 18000 روپے سے 70000 روپے فی ماہ تک ہے، لیکن مدرسہ پیراگراف ٹیچرس کا اعزازیہ صرف 4100 روپے سے 7500 روپے ماہانہ ہی ہے۔ ریاست میں مدرسوں کو چلانے کے لئے بورڈ کو ہر سال حکومت تقریبا 64 کروڑ روپے دیتی ہے۔ اتنی بڑی رقم ہر سال بغیر کسی قانون کے چل رہے اداروں میں تقسیم ہو رہی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز