ایئر انڈيا سمیت 7 ائیرلائنس کمپنیوں کی پروازوں میں گائيكواڑ کی نو انٹری

نجی شعبے کی چار ایئر لائنز نے شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ ارویندر گائیکواڑ کے فلائٹ میں سفر پر پابندی لگا دی ہے۔

Mar 24, 2017 12:35 PM IST | Updated on: Mar 24, 2017 06:21 PM IST

نئی دہلی: ایئر انڈیا کے ایک ملازم كو چپل سے پیٹنے والے شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ رویندر گايكواڑ کو طیارہ سروس کمپنیوں نے ممنوعہ فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ساتھ ہی ایئر انڈیا کے پائلٹوں نے بھی وزارت شہری ہوا بازی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اگر کسی فلائٹ میں مسٹر گائيكواڑبیٹھے ہوں گے تو وہ ہوائی جہاز نہیں اڑائیں گے۔

ایئر انڈیا سمیت کم از کم سات ایئر لائنس کمپنیوں نے رسمی طور پر کہا ہے کہ ان کےطیاروں میں مسٹر گائيكواڑ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایئر انڈیا نے پابندی پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کا آج کا پونے واپس لوٹنے کا ٹکٹ رد کر دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس کے بعد مسٹر گايكواڑ نے انڈیگو کی شام پانچ بجے کی فلائٹ میں ٹکٹ بک کرائی تھی لیکن انڈیگو نے بھی ان کا ٹکٹ منسوخ کر دیا۔ دریں اثناء، دہلی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 3 پر سکیورٹی انتظامات بڑھا دیئے گئے ہیں۔

ایئر انڈيا سمیت 7 ائیرلائنس کمپنیوں کی پروازوں میں گائيكواڑ کی نو انٹری

سرکاری طیارہ سروس کمپنی ایئر انڈیا کے ایک ترجمان نے مسٹر گايكواڑ کا ٹکٹ منسوخ کئے جانے کی تصدیق کی ہے۔ وہ جمعرات کی صبح ایئر انڈیا کی پرواز سے پونے سے دہلی آئے تھے۔ ان کے پاس بزنس کلاس کا اوپن ٹکٹ تھا لیکن انہوں نے پرواز نمبر اےاي 852 میں ٹکٹ بک کرایا تھا جس میں تمام نشستیں اکنامی کلاس کی ہوتی ہیں۔فلائٹ میں بزنس کلاس کی سیٹ نہیں دیے جانے پر انہوں نے ہوائی جہاز کے دہلی پہنچنے پر ہنگامہ کیا اور سمجھانے-بجھانے کے لئے موقع پر پہنچے ایک افسر کی چپل سے پٹائی کر دی۔

تمام ایئر لائنس کمپنیوں نے ایک آواز میں ان کی حرکت کی مذمت کی ہے اور اپنی پروازوں میں ان کے سفر پر پابندی لگا دی ہے۔ مسٹر گايكواڑ کا الزام ہے کہ ملازم نے ان سے بے ادبی سے بات کی تھی۔ آج بھی انہوں نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے کئے پر کوئی افسوس یا شرمندگی نہیں ہے۔

Loading...

فیڈریشن آف انڈین ایئر لائنز (ایف آئی اے) اور ایئر انڈیا نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے کہاکہ "ایئر انڈیا اور ایف آئی اے کے رکن ا یئر لائنس کمپنیوں نے اس لیڈر(مسٹر گايكواڑ) کے اپنی کسی بھی پرواز میں سفر کرنے پر فوری پابندی لگا دی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مثالی کارروائی کی جانی چاہیے جس سے ملازمین کا حوصلہ اور عام لوگوں کی سلامتی بحال رہے"۔ چار طیارہ سروس کمپنیاں انڈیگو، جیٹ ایئر ویز، گو ایئر اور اسپائس جیٹ ایف آئی اے کے رکن ہیں۔ اس کے علاوہ ویستارا اور ائر ایشیا نے بھی علیحدہ طورپر اپنے بیانات میں کہا کہ وہ دوسری ایئر لائنسوں کے ساتھ ہیں اور مسٹر گائيكواڑ پر ان کے طیاروں میں بھی پابندی رہے گی۔

فیڈریشن کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اجوول ڈے نے کہاکہ "ہمارے ساتھی ملازمین ، دیگر مسافروں کی سلامتی اور تحفظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے ایک "نو فلائی" فہرست بنانے کی بھی تجویز رکھی ہیں جس میں تمام ممنوعہ مسافروں کے نام ہوں گے۔ ایسے مسافروں کو ہماری پروازوں میں سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہم اس طرح کی "نو فلائی" فہرست کو مؤثر بنانے میں حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں"۔

بیان میں ایئر انڈیا کے طیارے میں جمعرات کو پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے ملزم رکن پارلیمنٹ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ"ہمارے کسی بھی ملازم پر حملہ ہم سب پر اور قانون پر عمل کرنے والے ملک کے ان تمام شہریوں پر حملہ ہے جو زندگی گزارنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں"۔

اس سلسلے میں پوچھے جانے پر ویستارا ایئر سروس کے ایک ترجمان نے بیان جاری کر کے کہا کہ"مسافروں کی بدسلوکی اور ناشائستہ برتاؤ سنگین معاملہ ہے اور اسے ہوا بازی جیسے حساس اور اہم صنعت میں سکیورٹی اور تحفظ دونوں کے لحاظ سے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہم مکمل طور پر ایئر انڈیا اور ایف آئی اے کی حمایت کرتے ہیں۔ فوری اثر سے متعلقہ شخصیت (مسٹر گايكواڑ) کے ہماری کسی بھی پرواز میں سفر پر پابندی عائد رہے گی"۔ ایئر لائنس نے" نو فلائی "فہرست بنانے کے مطالبے کی بھی حمایت کی ہے۔ ایئر ایشیا نے کہاکہ"ہم ایئر انڈیا کے ملازم کے ساتھ بدسلوکی کے معاملے میں فیڈریشن کی طرف سے لئے گئے کسی بھی فیصلے کی حمایت کریں گے"۔

شہری ہوا بازی کے وزیر اشوک گنجپتی راجو کو لکھے گئے خط میں ایئر انڈیا کمرشیل پايلٹس ایسوسی ایشن نے لکھا ہے کہ ملازمین کے تحفظ کے پیش نظر مسٹر گايكواڑ اگر کسی پرواز میں سفر کر رہے ہوں گے تو ایئر انڈیا کے پائلٹ طیارہ نہیں اڑائيں گے۔ اسپائس جیٹ کے صدر اور منیجنگ ڈائریکٹر اجے سنگھ نے اس مسئلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اسپائس جیٹ بد کردار مسافروں کو ممنوعہ قرار دینے کے لئے نو فلائی فہرست کی حمایت کرتی ہےکیونکہ یہ صرف عملے کے ارکان کے لئے ہی نہیں، دیگر مسافروں کے لئے بھی خطرہ ہیں۔ حکومت کو اس پر فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے۔ ہم اس طرح کے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز