مالیگاؤں میں ڈگری کالج نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں طلبہ و طالبات اعلی تعلیم سے محروم

Jun 05, 2017 11:29 PM IST | Updated on: Jun 05, 2017 11:29 PM IST

مالیگاؤں( ظہور خان) مالیگاؤں شہر کو تعلیمی شہر بھی کہا جاتا ہے ۔ شہرمیں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، مگر یہ تعداد مدرسوں کے بعد دسویں اور بارہویں کے امتحانات تک نظر آتی ہے ، اس کے بعد نظر نہیں آتی ۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ شہر کے مشرقی حصے میں جہاں 80 فیصدی اقلیتی آبادی ہے ، پرائمری اسکولوں ،ہائی اسکولوں اور جونئیر کالجوں کی ان علاقوں میں بھرمار ہے ، مگر افسوس ہزاروں کی تعداد میں بارہویں پاس کرنے والے طلبہ موجود ہیں ، مگر ایک بھی ڈگری کالج نہیں ہے ۔ ابھی ابھی بارہویں پاس کرنے والے طالب علم یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ شہر کے لیڈران اور ذمہ داران شہر کےاقلیتی علاقوں میں ڈگری کالج کھلوانے کے لئے کوشش کریں ۔

مالیگاؤں مہاراشٹر کا ایک ایسا شہر ہے ، جسے اردو کا گڑھ مانا جاتا ہے ۔ اس شہر میں اردو کتاب میلے کے دوران لوگ ایک کروڑ سے زائد کی کتابیں خرید سکتے ہیں۔ اس شہر میں تعلیمی ماحول کی کوئی کمی نہیں ہے ، اس کے باوجود ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کی تعداد بہت کم ہے ۔ جو طلبہ وطالبات بارہویں میں اچھے نمبرات حاصل کرتے ہیں ، وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے شہر سے باہر چلے جاتے ہیں۔ مگر سیکنڈ ڈویژن اور پاس ڈویژن حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات شہر کے اندرونی حصہ میں ڈگری کالج نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پڑھائی ادھوری ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔ اتنے بڑے تعلیمی شہر میں ایک بھی ڈگری کالج نہ ہونے سے خاص طورسے طالبات کی تعلیم کافی متاثر ہوتی ہے ۔

مالیگاؤں میں ڈگری کالج نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں طلبہ و طالبات اعلی تعلیم سے محروم

پانچ لاکھ کی آبادی پر مشتمل شہرمیں دسویں میں تقریباً 14 ہزار بچے امتحان میں شریک ہوتے ہیں ۔ یہ تعداد بارہویں جماعت میں جاتے جاتے 5 ہزار تک پہنچ جاتی ہے ۔ 5 ہزار طلبہ و طالبات میں سے 4 ہزار کامیاب ہوتے ہیں ، مگر شہر کے مشرقی حصےمیں جہاں اقلیتی طبقہ کی آبادی پانچ لاکھ کے آس پاس ہے ، ایک بھی کالج نہ ہونے کی وجہ سے ان طالب علموں اور برقع پوش طالبات کو والدین آگے کی تعلیم حاصل کرنے سے روک دیتے ہیں ۔ بچیاں چاہ کر بھی آگے اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ پاتیں ۔ بارہویں کے بعد جو طالب علم انجینئرنگ یا پالی ٹیکنک میں داخلہ لینا چاہتے ہیں ، ایسے طالب علموں کو بھی مایوسی ہاتھ لگتی ہے ، کیونکہ شہر کے اندرونی حصے میں ایک بھی پالی ٹیکنک یا انجینئرنگ کالج موجود نہیں ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز