خواجہ کے دربار سے اغوا بچے کا ڈھائی سال میں بھی نہیں ملا سراغ

Oct 28, 2017 08:02 PM IST | Updated on: Oct 28, 2017 08:02 PM IST

 اجمیر۔ اجمیر میں آئی ایک زائرین فیملی نے اپنے بچے کی تلاش کی خاطر اپنا آشیانہ تک گروی رکھ دیا پھر بھی ان کا لخت جگر انہیں نہیں مل پایا۔ ان کا کہنا ہے کتنےدکھ اور تکلیف  اٹھانے پر اس بچے کی پیدائش ہوئی تھی،  جگہ جگہ منت مراد کے بعد انکی گود بھری تھی اورایک پل میں پھر اجڑ گئی ۔ ڈھائی سال سے وہ اپنے بچے کی تلاش کر رہے ہیں۔ معاملہ ہے اجمیر درگاہ کا جہاں دنیا بھر سےزائرین حاضری لگانے اور اپنی مرادیں مانگنے آتے ہیں۔ انہیں میں ایک خاندان مدھیہ پردیش کے برہان پور کا  بھی آیا تھا ۔

جون 2015 میں جب یہ خاندان درگاہ میں بیٹھ کرعبادت کر رہا تھا تب ہی کوئی ان کے 9 ماہ کے معصوم بچے کو چرا كر لے گیا ۔ معصوم بچے کے چوری ہونے پروہاں افرا تفری مچ گئی۔  کافی اِدھراُدھر ڈھونڈھنے پر جب  بچہ نہیں ملا تو وہ لوگ درگاہ تھانہ رپورٹ کرنے کے لئے گئے ۔ پہلے تو بچے کے باپ ماں آصف اور حُسینہ پر ہی پولیس نے بچہ فروخت کرنے کا الزام لگا ڈالا۔  کافی ہنگامے پر پولیس نے مقدمہ درج کیا لیکن  آج تک وہ اس بچے کو ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے ۔ درگاہ میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں لیکن پولیس کوان سے بھی کوئی مدد نہیں مل پائی ۔

خواجہ کے دربار سے اغوا بچے کا ڈھائی سال میں بھی نہیں ملا سراغ

اس مظلوم خاندان نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ معصوم بچے کے دادا پر پولیس نے اغوا کرنے کا الزام لگایا تھا لیکن بچہ بر آمد نہیں ہو سکا۔  یہ خاندان ملک بھر میں جگہ جگہ گھوم کر بچے کو تلاش رہا ہے اور بچے کو ڈھونڈنے کے لیے اپنا  گھر تک گروی رکھ ڈالا ہے ۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز