دو سال سے اس گاؤں میں کوئی نہیں بنا دولہا ، پڑھئے ، آخر کیا ہے وجہ؟

May 10, 2017 03:50 PM IST | Updated on: May 10, 2017 03:50 PM IST

کوٹہ : کبھی بيمار ریاست کی گنتی میں آنے والا راجستھان ان دنوں خود کے خود کفیل ہونے کا دعوی تو خوب کررہا ہے ، لیکن آج ہم جس گاؤں کی کہانی آپ کو بتانے جا رہے ہیں ، وہاں کی ضلع انتظامیہ بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں کروا سکی ہے۔

کوٹہ ضلع کے خان پور گاؤں میں مقامی لوگوں کو راجا و مہاراجاؤں کے زمانے سے بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کا انتظار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھوم دھام سے دلہنوں کی ڈولياں تو اس گاؤں سے اٹھتی ہیں ،لیکن گزشتہ دو سالوں میں یہاں کوئی بھی نوجوان دولہا بن کر گھوڑی نہیں چڑھ سکا ہے۔

دو سال سے اس گاؤں میں کوئی نہیں بنا دولہا ، پڑھئے ، آخر کیا ہے وجہ؟

گاؤں میں رہنے والے شانتا لال کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں تقریبا ایک درجن کنبوں کو اپنے لڑکوں کی شادی کی فکر ستا رہی ہے۔ جنگل کے ناہموار راستے اور بجلی، پانی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہونے کی وجہ سے لڑکی والے اس گاؤں میں اپنے بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔ لڑکے والے ہنسی خوشی سے اس گاؤں کی لڑکی کو ڈولی میں بٹھا کر لے جاتے ہیں ، لیکن گاؤں میں ڈولی میں بیٹھ کر آنے کیلئے کوئی لڑکی تیار نہیں ہوتی ہے۔

آٹھویں کے بعد اسکول بھی نہیں

ایک اور مقامی شخص رمیش گوجر نے بتایا کہ اس گاؤں میں بجلی کے لئے کھمبے اور پانی کے لئے بورنگ تو ہیں ، لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ یہ سب بیکار ہیں ۔ ہمیں ہر چھوٹی بڑی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے 6 کلومیٹر جنگلات کا اونچا نیچا راستہ پار کرکے كسار جانا پڑتا ہے۔تعلیم کے لئے گاؤں میں آٹھویں تک اسکول ہے ، جس کے بعد لڑکے و لڑكيوں کی پڑھائی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق راجا اور مہاراجاؤں کے وقت آباد اس گاؤں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گوجر اکثریتی اس گاؤں میں 60 کنبے رہتے ہیں اور مویشی پروری کے ساتھ ساتھ کے ارد گرد کے علاقوں میں اجرت کرکے اپنا زندگی گزارتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ گاؤں میں حالات نہیں سدھرے ، تو کئی کنبے تو اپنا آبائی گھر پر تالا لگا کر كسار رہنے لگے۔ وہیں گاؤں کے کچھ سمجھدار لوگ عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر اپنے حق کی لڑائی لڑنے کے لئے آگے آئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز