اب صرف سپریم کورٹ سے ہی امید ، وہی ہمیں انصاف دے گا : پہلو خان کا بیٹا ارشاد

Oct 27, 2017 02:16 PM IST | Updated on: Oct 27, 2017 02:41 PM IST

الور : راجستھان  میں پیٹ پیٹ کر بے رحمی سے قتل کئے گئے پہلو خان کا معاملہ پولیس کی رپورٹ کے بعد اب ٹھنڈے بستہ میں جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ تاہم ملکی و غیر ملکی انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں نے اس سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے ، جس میں پولیس رپورٹ میں پائی جانے والی خامیوںکا اجاگر کیا گیا ہے۔

ادھر پہلو خان کے بیٹے ارشاد نے کہا ہے کہ وہ انصاف پانے کیلئے اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ نیوز 18 سے بات چیت میں ارشاد نے کہا کہ راجستھان پولیس پورے معاملہ پر لاپروائی برت رہی ہے۔ ارشاد نے بتایا کہ پولیس اب جائے واقعہ سے بھاگ رہی ہے جبکہ میرے سامنے وہ جائے واقعہ پر موجود تھی۔ ارشاد کے مطابق اب تو انہیں صرف سپرپم کورٹ  سے ہی امید ہے ۔ سپریم کورٹ ہی انہیں انصاف دے گا۔ ارشاد نے مزید بتایا کہ وہ اس سلسل میں وکیلوں کے ساتھ بھی بات چیت کرچکے ہیں ۔

اب صرف سپریم کورٹ سے ہی امید ، وہی ہمیں انصاف دے گا : پہلو خان کا بیٹا ارشاد

عدالت میں ان پوائنٹس کو اٹھائیں گے ارشاد

پہلوخان پر یکم اپریل کی رات سات سے دس بجے کے درمیان حملہ کیا گیا ، لیکن ایف آئی آر اگلے دن صبح 3.54 منٹ پر درج کی گئی ۔

پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کے ساتھ ساتھ قتل کی کوشش ، ثبوت مٹانے اور ڈکیتی جیسے معاملوں کی دفعات نہیں لگائی گئیں۔

پہلو خان نے 11.50 بجے اپنا بیان درج کرایا تھا ، جس میں حملہ کی بات قبول کی تھی ، لیکن پولیس نے اسپتال سے 2.9 کلو میٹر دور بہروڑ پولیس اسٹیشن پہنچنے میں چار گھٹنے لگا دئے۔

پہلو خان نے دعوی کیا تھا کہ اس کے ساتھ مار پیٹ کے دوران کچھ پولیس اہلکار بھی موجود تھے ، لیکن ایف آئی آر میں ان کا نام درج نہیں کیا گیا۔

پولیس نے 500 روپے انعام کا اعلان کرنے کیلئے علاوہ زمیں سطح پر ملزموں کی گرفتاری کیلئے کوئی کوشش نہیں کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز