نئی حج پالیسی کی اورنگ آباد میں بھی مخالفت، دو نومبر کی میٹنگ پر سب کی نظر

Oct 21, 2017 08:02 PM IST | Updated on: Oct 21, 2017 08:02 PM IST

اورنگ آباد۔ پنج سالہ حج  پالیسی کو وضع کرنے کے لیے  وزارت اقلیتی امور کو جو سفارشات پیش کی گئی ہیں، ان کی مخالفت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی کے سابق چیئرمین جی ایس اے انصاری  نے حکومت پرمن مانی کا الزام عائد کیا اور حج امور میں مداخلت کے خلاف سخت انتباہ دیا ہے۔ نئی مجوزہ حج پالیسی میں جن امبارکیشن پوائنٹ کی منسوخی کا مشورہ دیا گیا ہے  ان میں اورنگ آباد امبارکیشن پوائنٹ بھی شامل ہے ۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے حج پالیسی کے نفاذ کے تعلق سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ  نہیں کیا ہے، دو نومبر کو تمام ریاستوں کے ایگزکیٹیو افسران کو ممبئی طلب کیا گیا ہے۔ اس میٹنگ  کے بعد ہی حج پالیسی کے تعلق سے قطعی فیصلہ  ہوسکتا ہے ۔ اس لیے سبھی کو اس میٹنگ کا شدت سے انتظار ہے ۔

نئی حج پالیسی کی اورنگ آباد میں بھی مخالفت، دو نومبر کی میٹنگ پر سب کی نظر

عازمین حج کی وطن واپسی: فائل فوٹو۔

واضح رہے  کہ سنہ 2004 میں اورنگ آباد سے  براہ راست فلائٹ  شروع ہوئی تھی، جس کی وجہ سے عازمین کو کافی سہولت ہوگئی تھی ۔ لیکن اب یہ سہولت بند ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس کے علاوہ  بغیر محرم  کے خاتون کو سفر حج کی اجازت کی بھی مذمت کی جا رہی ہے ۔ علما اور  حج مشن سے جڑے افراد  کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی امورمیں مداخلت  ہے اور پالیسی کو تبدیل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے ۔

 مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد حج پالیسی کے جائزے اور ترمیمات کے لیے وزارت اقلیتی امور کی جانب سے ایک  کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اس کمیٹی  نے حال ہی میں اپنی سفارشات  اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کو سونپی ہیں، جن میں  اکیس امبارکیشن پوائنٹ کو گھٹا کر نو امبارکیشن پوائنٹ تک محدود کرنا ، پینتالیس سال سے زائد عمر کی خواتین کو بغیر محرم کے مشروط سفر حج کی اجازت دینا اور گلوبل ٹینڈر طلب کرنے جیسی سفارشات شامل ہیں۔  ابھی یہ معاملہ حکومت کے زیرغور ہے لیکن مسلمانوں کا ایک بڑا حلقہ ان سفارشات کی مخالفت کر رہا ہے ۔ مہاراشٹراسٹیٹ حج کمیٹی کے سابق چیئرمین جی ایس اے انصاری نے سفارشات کو من مانی سے تعبیر کیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز