سمجھ میں نہیں آتا کہ حافظ سعید کی رہائی پرکانگریس کیوں تالیاں بجارہی ہے: مودی

Nov 27, 2017 02:38 PM IST | Updated on: Nov 27, 2017 02:38 PM IST

بھج۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس اور اس کے نائب صدر راہل گاندھی پر چوطرفہ حملہ بولتے ہوئے آج کہا کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستانی جیل سے دہشت گرد حافظ سعید کو رہائی ملنے پر وہ کس لئے تالی بجا رہے ہیں۔ انہوں نے ڈوکلام تنازع اور سرجیکل اسٹرائیک پر بھی کانگریس کی سخت نکتہ چینی کی۔ مسٹر مودی نے اپنی آبائی ریاست گجرات میں انتخابی مہم کی باضابطہ شروعات کرتے ہوئے کچھ کے ضلع ہیڈکوارٹر بھج کے لالن میدان میں اپنی پہلی انتخابی ریلی میں نوٹ بندي، جی ایس ٹی، گجرات کے تئیں کانگریس کے مبینہ امتیازی سلوک سمیت مختلف معاملات پر اپوزیشن پارٹی پر جم کرحملہ کیا۔

مسٹر گاندھی کی سعید کی رہائی پر حال میں وزیر اعظم کو نشانہ بنا کرکئے گئے ٹویٹ اور ڈوكلام تنازع کے وقت ان کی (مسٹر گاندھی کی)چینی سفیر سے ملاقات اور سرجیکل اسٹرائیک کے وقت ثبوت مانگنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پاکستان کی عدالت کے حکم پر دہشت گرد حافظ سعید کو رہائی مل گئی۔ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کانگریس کس لئے تالیاں بجارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سمجھ میں آتا ہے کہ جب فوج کے جوان ملک کی آن بان شان کے لئے ڈوكلام میں صفر سے نیچے کے درجہ حرارت پر مسلسل 70 دن تک چینی فوج سے آنکھوں میں آنکھ ڈال کر ڈٹے تھے تو آپ چینی سفیر کو گلے کیوں لگا رہے تھے،یہ کس کے فائد ے کے لئے تھا؟ میں یہ سوال پوچھتا ہوں۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ حافظ سعید کی رہائی پرکانگریس کیوں تالیاں بجارہی ہے: مودی

پرانی یادوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کے دفتر سے مہا گجرات تحریک کے دوران گجرات کا مطالبہ کرنے والوں پر فائرنگ کی گئی تھی ۔

مسٹرمودی نے کہا کہ 26/11 میں ممبئی میں ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا اور بعد میں اُری میں بھی ایسا ہی حملہ ہوا۔ حکومت-حکومت اور لیڈر۔لیڈر میں فرق کیا ہوتا ہے، یہ اس بات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اُري کے حملے کے بعد ہمارے جوانوں نے دہشت گردوں کو ان کے گھر میں گھس کر مارا، ایک اہم اخبار نے اس سرجیکل اسٹرائیک کے بعد ٹرکوں میں لاش بھر کر لے جانے کی خبرشائع کی تھی، لیکن غریبوں کے گھر میں کھانا کھانے کا ڈرامہ کرکے تصویریں شائع کرانے والے لوگ اس کی ویڈیو یا تصویرکا مطالبہ کر رہے تھے۔ کیا فوج وہاں فلم بنانے کے لئے گئی تھی۔ حافظ سعید کی رہائی اور چینی سفیر سےملاقات کا مزہ لینے والے ان لوگوں کو کم از کم شہید جوانوں کا خیال رکھتے ہوئے خاموش رہنا چاہئے تھا۔سرجیکل اسٹرائیک کرنے والے فلم بنانے نہیں گئے تھے۔

گجرات انتخابات میں کانگریس کی جانب سے زور شور سے اٹھائے جا رہے نوٹ بندي کے معاملے پر بھی انہوں نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ملک کو تباہ کیا، لوٹ ہی جن کی تاریخ ہے، ان کی تکلیف نوٹ بندي کے ایک سال بعد بھی اسی طرح ہے جیسے کہ کسی خاندان کا تنہا کمانے والا بیٹا گزر گیا ہو۔ وہ ایسے رو رہے ہیں جیسے ان کا سب کچھ تباہ ہوگیا ہے، مودی نے سب کچھ گرا دیا ہے۔ جی ایس ٹی کے معاملے پر کانگریس کے زیر اقتدار حکومتوں کے وزراء خزانہ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے اندر تو ہر معاملے پر اتفاق کرتے ہیں لیکن باہر آکر احتجاج کرتے ہیں۔ حکومت اس نظام میں(جی ایس ٹی سے متعلق قوانین میں) بلا کسی رعونت کہ تاجروں کی ضروریات اور سہولت کے مطابق تبدیلی جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دلی کی سرکار(مرکزی حکومت) کرسی کے لئے نہیں ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ وہ گجرات انتخابات کے دوران کیچڑ اچھالنے والوں کے شکر گزار ہیں کیونکہ اس سے کمل کھلنا آسان ہو گیا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گجرات کا الیکشن ترقی کا عہد اور کنبہ پروری کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو گجرات نے کبھی قبول نہیں کیا کیونکہ اس نے سردار پٹیل کے زمانے ہی سے ریاست کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا اور اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی ۔ ریاست کی عوام اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

پرانی یادوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کے دفتر سے مہا گجرات تحریک کے دوران گجرات کا مطالبہ کرنے والوں پر فائرنگ کی گئی تھی ۔ انہوں نے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گجرات ان کی ماں ہے اور جس نے عوامی زندگی میں بغیر کسی داغ والے اپنے اس بیٹے پر اناپ شناپ جھوٹے الزامات لگانے کی ہمت کی ہے انہیں یہاں کی عوام کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اب وقت بدل گیا ہے اور پہلے سردار پٹیل کے ساتھ ہوئے مظالم کو سرجھکا کر برداشت کرلینے والا گجرات اب اپنے کسی بیٹے کی ایسی توہین برداشت نہیں کرے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز