معروف شاعر ظفرگورکھپوری کا 83 سال کی عمر میں انتقال ، ادبی دنیا میں غم کی لہر

Jul 30, 2017 01:27 PM IST | Updated on: Jul 30, 2017 01:27 PM IST

ممبئی : معروف شاعر اورادیب ظفر گورکھپوری صاحب کا طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا ہے۔ان کی عمر 83 سال تھی ،انہیں خصوصی طورپر بچوں کے ادب کے لئے بھی یاد رکھا جائے گا، مرحوم 1950 کے عشرے میں ترقی پسند تحریک سے بھی وابستہ رہے۔ اتوارکو بعد نماز ظہر چار بنگلہ قبرستان اندیھری ویسٹ میں انکی تدفین عمل میں آئی۔ اس موقع پر ادبی، سماجی اور صحافتی شعبوں سے منسلک متعدد افراد موجود تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹے اعجاز، امتیاز اور خالد ہیں جبکہ ایک صاحبزادے جاوید کا چند سال قبل انتقال ہوگیا۔اعجاز اور خالد دونوں بیرون ملک ہیں، امتیاز بھی شعر کہتے ہیں اور ایک ادبی رسالہ سے بھی وابستہ ہیں۔

ظفر گورکھپوری کا نام ظفرالدین اورتخلص ظفرتھا۔وہ 5 مئی 1935 کو ضلع گورکھپور یو پی کی تحصیل بانس گائوں کے ایک دیہات بیدولی بابو میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی میں ممبئی تشریف لے آئے اور پھریہیں کے ہو کر رہ گئے۔ کہتے تھے کہ گاؤں واپس جانے کو بہت جی چاہتا ہے، لیکن باڑھ آئی تھی ظفر لے گئی گھر بار مرا* اب کسے دیکھنے جائوں میں وطن بارش میں* مشہور صحافی اور ان کے قریبی فاروق سیّد نے کہاکہ ظفر گورکھپوری زمانۂ طالب علمی میں اسکولوں کی غیر نصابی تحریکوں میں حصہ لینے لگے اور بعض ادب کا ذوق رکھنے والے اساتذہ کی ہمت افزائیو ں کے نتیجے میں انہیں ادب کا چسکا لگا۔انہوں نے کہاکہ ظفر صاحب نے پہلے کچھ افسانے لکھے ،پھر شعر ، پہلا شعر غالباً 1949ء میں کہا تھااور پھر 1953 میں ترقی پسند تحریک میں شامل ہوگئے۔

معروف شاعر ظفرگورکھپوری کا 83 سال کی عمر میں انتقال ، ادبی دنیا میں غم کی لہر

مرحوم ظفر گورکھپوری کاکہنا تھا کہ فراق بنے بھائی ( سجاد ظہیر ) ، سردار کیفی، کرشن چندر ، مہندر ناتھ، ظ انصاری، اور مجروح وغیرہ کے ساتھ ملا تو صلاحیتوں کو اور جلاملی، لیکن بہت جلد یہ سمجھ میں آگیا کہ ادب کو کسی مخصوص نظریے کی تشہیر کا ذریعہ نہیں ہونا چاہئے اور نہ اسے ذات مختصر کے دائرے کا اسیر ہونا چاہئے۔ تب سے دونوں کے درمیان اپنی راہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ شعر گوئی کی ابتداء نظم سے ہوئی تھی۔ دو دہائیوں سے کچھ زیادہ ہی عرصے تک نظمیں کہتا رہا۔ لیکن جانے کیوں ادھر چند برسوں سے غزل نے من موہ لیا ہے۔

ظفرگورکھپوری ممبئی میونسپل کارپوریشن کے محکمۂ تعلیم میں معلم کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے اورملازم تین دہائیوں کی ملازمت کے بعد یکم جولائی1993ء کو سبکدوش ہوئے اور اردوادب کی خدمت میں لگ گئے، اب تک کئی شعری مجموعے چھپ چکے ہیں۔ ان کے نام :تیشہ، آرپار،زمیں کے قریب،وادئ سنگ،گوکھرو کے پھول(شعری مجموعے) ،ناچ ری گڑیا(بچوں کی نظمیں)،اورسچائیاں(بچوں کی کہانیاں)، ہیں۔

ظفر گورکھپوری کی تصنیف وادئ سنگ ، ناچ ری گڑیا اور سچائیاں پر اردو اکادمیوں سے انعامات بھی ملے۔ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ مثلاً عقل حیران وپریشان ،سمراٹ اشوک،ایک تھا کنکر ، ایک تھا موتی،دوبھائی ۔ نیا انصاف وغیرہ۔ پیمانۂ غزل(جلد دوم) میں محمد شمس الحق نے ان سے مکمل گفتگو شائع کی تھی۔ شاعر اور رسالہ گگن کی مشیر انصاری نے کہاکہ مرحوم ظفر گورکھپوری کوادب اطفال کےلئے یاد کیا جائے گاجبکہ انہوں نے غزل کی مقبولیت کے لئے اہم رول اداکیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز