سرسید تھے توہم یہاں ہیں ، سرسید نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے ؟ پروفیسر اخترالواسع

سرسید نے تعلیم ، تہذیب ، مذہب زبان ،ادب صحافت اور سماجی ا صلاح کے میدان میں اپنی غیر معمولی چھاپ چھوڑی ہے۔

Oct 17, 2017 08:33 PM IST | Updated on: Oct 17, 2017 08:33 PM IST

جودھپور: سرسید نے تعلیم ، تہذیب ، مذہب زبان ،ادب صحافت اور سماجی ا صلاح کے میدان میں اپنی غیر معمولی چھاپ چھوڑی ہے۔ سرسیدتھے توہم یہاں ہیں، سرسید نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے ؟ ان خیالت کا اظہار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے پریسیڈینٹ پروفیسر اخترالواسع نے مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئرسوسائٹی جودھپور کے زیر اہتمام سرسید کی200ویں جشنِ ولادت کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کیا۔ انہوں نے کہا سرسید کی نظر ماضی پربھی تھی اور ان کی پکڑ مستقبل پر بھی تھی وہ شہرآفتاب جودھپور کے جلسے میں مہمانِ خصوصی کے طور پر خطاب کر رہے تھے۔ پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ سر سید نے سائنس اور مذہب کی دوری کواپنی فکر سے مٹایا، دین ودنیا کی یکجائی پر زور دیا۔

اس تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے راجستھان پولس کے سابق آئی جی مراد علی ابرا نے کہا کہ ہمارے جیسے لوگ سرسید مشن کی وجہ سے زندگی میں کامیاب ہوئے ، ہمیں سرسید سے ہمت اور حوصلے کا سبق لینا چاہیے۔ہندوستان کی ریلوے کے اے۔سی۔ایم۔ متعینہ بیکانیر کے عرفان قریشی نے مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں گذارے ہو ئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا زندگی میں اونچی اْڑان عطا کرنے کے لیے انہیں وہیں سے سیکھ ملی انہوں نے کہا کہ مسلما نوں کو ہر جگہ ایک مثبت سوچ سے کام لیتے ہوئے ترقی اور تعمیر کے لیے سرگر م ہونا چاہیے۔

سرسید تھے توہم یہاں ہیں ، سرسید نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے ؟ پروفیسر اخترالواسع

جے نارائن ویاس یونیورسٹی جودھپور ڈپارٹمینٹ آف کیمسٹری کے سابق صدر پروفیسر محمد رئیس خاں شیروانی نے کہا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی نے ہمیں وہ تعلیم وتربیت دی جس کی وجہ سے ہم علیگڑھ سے باہر اپنی جگہ بنا پائے ،سرسید کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیمی ادروں کوقایم کرنے کامشورہ دیا۔ فزی کل ایجوکیشن حکومتِ راجستھان کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر محمد ادریس نے سرسید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہمیں اپنے وسائل و زرائع کا صحیح استعمال کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں خاص طور مسجدوں کا ہم کس طرح سے دو گھنٹے کے بجائے بارہ گھنٹے تک سماجی اصلاحی تعمیری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئرسوسائٹی جودھپور کے جنرل سیکریٹری محمد عتیق نے کہا ہماری تعلیمی کوششیں اورہمارے تعلیمی ادارے ان چراغوں کے مانند ہیں جنہوں نے سرسید کی شخصیت اور فکر سے روشنی پائی ہے ہم یہ مانتے اور جانتے ہیں کہ مسلما نوں کی فلاح وبہبود صرف علیگڑھ تحریک کو نمونہ بنانے اور آگے بڑھانے میں ہے۔ جلسے کی صدارت جودھپور میں سب سے سینیر علیگ اور مشہور معالج ڈاکٹر غلام ربّانی صاحب نے کرتے ہوئے کہا کہ مولا نا آزاد یونیورسٹی جودھپور سرسید تحریک کی توسیع ہے اور اس یونیورسٹی کا قیام مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئرسوسائٹی جودھپور کی طرف سے سرسید کو سچّا خراجِ عقیدت ہے۔

Loading...

اس تقریب کا اہتمام مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے لائبریرین اور علیگڑھ کے اولڈ بوائے محمد سیف اللہ نے کیا اور جلسے کی نظامت سوسائٹی کے پروگرام ڈائریکٹر محمد امین نے کی، اس تقریب کا آغا ز عبدالرزّاق نے تلاوتِ کلام پاک سے کیا ، اس کے بعد سرسید پر آدھے گھنٹے کی ایک ڈاکیو مینٹر ی دکھائی گئی اور اختتام علیگڑھ کے ترانے پر ہوا۔ اس تقریب میں جودھپور کے معزّزین، یونیورسٹی کے اساتذہ اورطلباء،بالخصوص سوسائٹی کے صدر عبد العزیز، سابقہ صدر حاجی عبداللہ قریشی ،رؤف انصاری،حنیف لوہانی موجود تھے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز