الور واقعہ کے خلاف اورنگ آباد میں مسلم نمائندہ کونسل کا احتجاجی دھرنا

Apr 11, 2017 08:02 PM IST | Updated on: Apr 11, 2017 08:02 PM IST

اورنگ آباد۔  راجستھان کے الور میں  گئو رکشکوں کی  مبینہ مارپیٹ میں پہلو خان کی  موت کے خلاف اورنگ آباد میں  احتجاجی دھرنا دیا گیا۔  مسلم نمائندہ کونسل کے بینر تلے ڈیویژنل کمشنر آفس کے روبرو دیئے گئے دھرنے میں  درجنوں تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔  اس موقع پر  گوشت کے تاجروں کو  لائسنس یافتہ ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔ اورنگ آباد میں دھوپ کی شدت  کے باوجود شہر کے  نوجوان الور قتل کیس کی مذمت کے لیے  ڈیویژنل کمشنر آفس کے روبرو جمع ہوئے  ۔ اس ایک روزہ دھرنے کا اہتمام  اورنگ آباد کی متعدد ملی اور سماجی تنظیموں کی وفاقی فیڈریشن مسلم نمائندہ کونسل نے کیا تھا۔  اس موقع پر گوشت کے کاروبار کی آڑ میں اقلیتوں اوردلتوں پر ہورہے حملوں کی پرزور مذمت کی گئی۔

مسلم نمائندہ کونسل کےکارگزار صدر کا کہنا ہے کہ پچھلے دو برسوں میں گائے کے نام پراب تک  اٹھارہ  افراد کو شک کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے ۔اس موقع پر  ڈیویژنل کمشنر کے توسط سے  وزیر داحلہ راجناتھ سنگھ کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا جس میں  خود ساختہ گئورکشکوں پر پابندی عائد کرنے  ، جانوروں کے کاروبار سے جڑے افراد کو لائسنس یافتہ ہتھیار فراہم کرنے  اور الور واقعے کے ذمہ داروں کو  کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات شامل ہیں ۔ احتجاجی دھرنے میں حکومت کی دوہری پالیسی پر  نکتہ چینی کی گئی اور پولیس کی خاموشی  کو ملک کے  جمہوری نظام کے لیے خطرناک بتایا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے  ملک میں بھائی چارہ کی برقراری کے لیے  فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف متحدہ  تحریک چلانے پر زور دیا اور پہلو خان  کیس کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلانے  کا مطالبہ کیا گیا۔

الور واقعہ کے خلاف اورنگ آباد میں مسلم نمائندہ کونسل کا احتجاجی دھرنا

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز