یروشلم پر امریکی فیصلہ کے خلاف مسلمانوں نے اتحاد واتفاق کا کیا زبردست مظاہرہ

Dec 16, 2017 06:38 PM IST | Updated on: Dec 16, 2017 06:38 PM IST

ممبئی۔  مسلم مجلس مشاورت کے زیر اہتمام امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلہ کے خلاف ایک زبردست جلسہ عام ہوا اور ایک قرارداد منظور کرکے امریکی فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس فیصلہ پر نظرثانی کی جائے اور اسلامی حکومتیں پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کریں اور آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسے حل کرنے کیلئے جدوجہد کی جائے۔ جنوبی ممبئی کے تاریخی خلافت ہاؤس میں گزشتہ شب تمام مسلکوں کے علمائے دین ،دانشوروں اور تنظیموں کے سربراہوں کی موجودگی میں منعقد کیے گئے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ظہیر عباس رضوی نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی سے فلسطینوں کے لیے ان کی سرزمین ہی تنگ کردی گئی ہے اور اسرائیل کی جان لیوا بمباری اور مظالم کا سامنا کررہے ہیں اور مظالم کے شکار بچوں کی چیخ وپکار ،بیواؤں کی آہ وزاری اور نوجوانوں کی بے کفن لاشیں دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے اور آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔اس کے باوجود ان فلسطین قابل تعریف ہیں کہ وہ ظالم اسرائیلوں کے سامنے سینہ سپر ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جذباتی باتیں کرنے سے زیادہ ہمیں ایک ملی جلی حکمت عملی کے ساتھ ایسے معاملات میں پیش رفت کرنا چاہئے ،کیونکہ اگر ساری دنیا کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ حالات انتہائی سنگین ہیں اور دنیا میں مظلوموں کو دہشت گرد قراردینے کا جیسے رواج بنالیا گیا ہے ،جہاں تک ایک آزاد فلسطین کا مسئلہ ہے تو اسلامی اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے متحد ہوکر فیصلہ لینا ہوگا۔ ورنہ تاریخ میں انہیں بزدل قراردیا جائے گا۔ انہوں نے اسے خوش آئند بتایا کہ یورپ کے بیشتر ممالک کے امریکی فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

یروشلم پر امریکی فیصلہ کے خلاف مسلمانوں نے اتحاد واتفاق کا کیا زبردست مظاہرہ

مسجد اقصیٰ: فائل فوٹو۔

اس موقع پرمولانا عبدالجبار ماہر قادری نے کہا کہ فلسطین کے ساتھ اتحادویکجہتی کا مظاہرہ کریں اور سب سے پہلے اپنی صفوں میں پائے جانے والے انتشار کو دورکرنے کی کوشش کی جائے اور اپنی نوجوان نسل کو مذہب ودین سے وابستہ کیا جائے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ یروشلم میں مسلمانوں کو قبلہ اوّل واقع ہے اور تقریباً ڈیرھ سال تک یہاں کا رُخ کرکے نماز اداکی گئی اور حضورؐ مکہ سے براق پر سوار ہوکر بیت المقدس پہنچے اور نبیوں اور رسولوں کی امامت کے بعد آسمان کی سیر کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ مولانا اعجاز کشمیری نے واضح طور پر کہا کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دہشت گرد اور ظالم بنا کر پیش کرنے کا رواج بن چکا ہے۔اور یہ صورت حال ہماری دین سے دور ی کی وجہ سے ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جذبات ختم ہوچکے ہیں اور ہمارے دل میں بیت المقدس کے لیے کوئی ایمانی جذبہ نہیں بچا ہے اور مسلم نوجوانوں میں بیداری کی ضرورت ہے۔اس سے قبل سماجی کارکن سلیم الوارے نے ابتدا میں کہاکہ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم متحد ہوکر تدبر وحکمت کے ذریعہ آگے بڑھیں اور فلسطینی کاز کے لیے کام کریں۔مجلس مشاورت ممبئی کے صدر سعید خان نے کہا کہ ہمیں ناامیدی اور مایوسی سے باہر نکلنا ہوگا۔ٹرمپ کے فیصلہ کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ یروشلم کی بازیابی کے لیے لڑائی جاری رہیگی۔اور اس کے لیے جدوجہد جاری رہنا چاہیئے۔ ہمیں مسجد اقصٰی کا سفر کرنا چاہئے تاکہ فلسطینیوں کے حوصلہ بلند ہوں گے اور ان کا ساتھ دینا ہوگا۔

مشہور سماجی کارکن سلیم الوارے نے کہا کہ برطانیہ اور اس کے حوارین نے ایک صدی قبل یہ سازش رچی اور تقریباًً سال قبل ایک نئے ملک اسرائیل کی سنگ بنیاد رکھ کر فلسطین کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ۔ امریکہ اور عالمی طاقتوں کی درپردہ اس فیصلہ کو حمایت حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے حالات بھی انتہائی خراب ہیں ،لیکن ہم آپس میں دست وگریباں نظرآرہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز