مودی-شاہ نے وکاس کو پاگل کردیا، کانگریس اسے پاگل خانے سے باہر لائےگی: راہل

Oct 11, 2017 09:07 PM IST | Updated on: Oct 11, 2017 09:07 PM IST

دیوگڑھ باریا(گجرات)۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اپنے گجرات دورے کے آخری دن بھی برسراقتدار بی جے پی کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے ریاست میں وکاس کو پاگل کردیا ہے جسے ان کی پارٹی اسمبلی انتخابات میں جیت کے بعد پاگل خانے سے باہر لائے گی۔ مسٹر گاندھی نے یہ بھی دعوی کیا کہ گجرات میں بی جے پی اوپر سے پرسکون نظر آرہی ہے لیکن اصل میں اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہے کیونکہ مودی کی شبیہ پر بھروسہ ظاہر کرنے والے عوام اب ان کی حقیقت سمجھ گئے ہیں۔ انہوں نے مسٹر شاہ کے بیٹے جے شاہ کی کمپنی کے معاملے کو پھر اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس سے مسٹر مودی اور مسٹر شاہ کو پورا فائدہ ہوا ہے اور دونوں کے اچھے دن آگئے ہیں۔

مسٹر گاندھی نے اس سال دسمبر میں ریاست میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر گجرات کے اپنے سہ روزہ دورے کے آخری دن آج داہود ضلع کے قبائلی اکثریت والے دیوگڑھ باریا میں ایک میٹنگ میں کہا کہ گجرات میں 5 سے 10 لاکھ چندا دے کر کالج میں داخلہ لینے والے طلبہ کو پڑھنے کے بعد نوکری نہیں ملتی۔ ایسے تعلیمی نظام کا کیا مطلب۔چندے کی رقم پانچ-دس سرمایہ کار لے جاتے ہیں۔ حکومت کہتی ہے نوکری نہیں ہے۔یہ سرمایہ کار ہزار کروڑ کے گھرمیں رہتے ہیں اور بڑی بڑی گاڑیوں میں چلتے ہیں۔گجرات میں 30لاکھ بے روزگار نوجوان ہیں۔ انہوں نے نوٹوں کی منسوخی کے سلسلے میں بھی مسٹر مودی پر حملہ کیا اور کہا کہ اس سے نقدی کے ذریعہ کام کرنے والے چھوٹے کاروباری تباہ ہوگئے۔عوام چور بن گئےجبکہ اصلی چوروں نے کالے دھن کو سفید کرلیا۔ اس کے بعد آدھی رات کو جی ایس ٹی نافذ کرکے رہی سہی کسر بھی پوری کردی گئی۔ جی ڈی پی کی اضافی شرح 4.2فیصد تک گر گئی ہے۔ پورے ملک میں آگ لگ گئی ہے اور اس آگ کے درمیان امت شاہ کے بیٹے کی کمپنی چمکتی ہوئی نکلی۔ اسے 2014 میں مودی جی کی حکومت بننے کے بعد مہینوں میں زبردست فائدہ ہوا پھر اسے بند کردیا گیا ۔مودی جی خود کو چوکیدار بتاتے تھے لیکن کیا وہ اس میں شراکت دار نہیں ہیں۔اس کا پورا پورا فائدہ انہیں اور مسٹر شاہ کو ہوا اور ان کے اچھےدن آگئے۔

مودی-شاہ نے وکاس کو پاگل کردیا، کانگریس اسے پاگل خانے سے باہر لائےگی: راہل

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی فائل فوٹو۔ پی ٹی آئی۔

کانگریس رہنما نے مہنگائی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ دنیا بھر میں کچے تیل کی گرتی قیمت کے باوجود ہندوستان میں پٹرول کے دام بڑھتے جارہے ہیں۔ سبزی ،تعلیم ،صحت خدمات سب مہنگی ہی ہوئی ہیں۔جبکہ مودی جی مہنگائی کم کرنے کی بات کرتے تھے۔انہوں نے قبائلیوں سے بھی جھوٹے وعدے کئے ۔سال 2007 میں 15ہزار کروڑ اور 2012 میں 40ہزار کروڑ قبائلیوں کی ترقی کےلئے دینے کی بات کہی تھی۔انہیں گھر،روزگار،بجلی اور دیگر سہولیات دینے کی بات کی تھی پر کیا ہوا۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ گجرات میں اب تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ بی جےپی میں اوپر سے خاموشی نظر آرہی ہے لیکن نیچے سے زمین کھسک گئی ہے۔نریندر مودی جی کی جو شبیہ تھی جس پر پورے گجرات نے بھروسہ کیا تھا اس کی حقیقت لوگ سمجھ گئے ہیں۔کچھ ہی ماہ میں یہاں انتخابات ہوں گے،نئی حکومت بنے گی۔وہ حکومت وزیراعظم کی طرح من کی بات نہیں کرے گی۔عوام کے من کی بات سنے گی اور اس کے حساب سے کام کرے گی۔گجرات میں مودی جی کا ماڈل کچھ مخصوص کاروباریوں کےلئے ہے۔ اس کی جگہ کانگریس کی حکومت پورے ملک کو راستہ دکھانےوالے گجرات جس نےماضی میں مہاتما گاندھی اور سردار پٹیل جیسی شخصیات اور انقلاب ابیض جیسی چیز ملک کو دی ہے،کا ماڈل لاکر پھرسے ملک کو راستہ دکھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں وکاس کو جو پاگل کردیا ہے اسے پاگل خانے سے باہر لانا پڑے گا اور اسے ٹھیک کرنا پڑے گا۔ کانگریس ایسا کرے گی۔ مسٹر گاندھی نے دہرایا کہ کانگریس کی حکومت بنتے ہی ریاست میں کسانوں کا قرض معاف کردیا جائے گا۔مسٹر گاندھی نے اس سے پہلے مقامی قبائلیوں کے ساتھ رقص بھی کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز