الور: سر کاٹ کر ریلوے ٹریک پر پھینک دی گئی تھی عمر کی لاش

Nov 15, 2017 01:22 PM IST | Updated on: Nov 15, 2017 01:23 PM IST

الور۔ الورپولیس نے عمر محمد کے قتل کیس میں دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔ لیکن مقتول عمر کی لاش کو سب سے پہلے دیکھنے والے شخص کا دعوی ہے کہ اسے صرف گولی نہیں ماری گئی، بلکہ ریلوے ٹریک پر پھینکے جانے سے پہلے اس کا سر قلم کیا گیا تھا۔ بتا دیں کہ 10 نومبر کو رام گڑھ اور جادولی کا بس کے درمیان ریلوے ٹریک پر محمد کی لاش ملی تھی۔ تاہم، پولیس ابھی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔

سونو کمار نے سب سے پہلے عمر کی لاش دیکھی تھی۔ نیوز 18 کے ساتھ بات چیت میں، انہوں نے کہا، "اس نے اپنے سینئر اہلکاروں کو بتایا کہ جسم کی حالت سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے اس کا سر قلم کیا گیا اور بعد میں ٹریک پر پھینک دیا گیا۔ سونو نے کہا، "عمر کی لاش ٹریک کے بیچوں بیچ میں تھی، لیکن سر اس کے باہر تھا، اس کے ٹانگوں اور دیگر انگوں پر چوٹ کے نشان تھے، مجھے یقین ہے کہ لاش کو ٹریک پر لا کر رکھا گیا تھا۔ اگر ٹرین لاش کے اوپر سے گزری ہوتی تو وہ اس طرح نہیں رہتی۔ اگر جسم ٹریک کے بیچ میں ہو تو سر کیسے کٹا ہوا ہو سکتا ہے؟

الور: سر کاٹ کر ریلوے ٹریک پر پھینک دی گئی تھی عمر کی لاش

متھرا کے رہنے والے ریلوے ملازم 148 / 3-4 ریلوے ٹریک پر کی۔ مین کے طور پر تعینات تھے۔ سونو کمار نے نیوز 18 کو وہ جگہ دکھائی جہاں عمر کی لاش ملی تھی۔

متھرا کے رہنے والے ریلوے ملازم 148 / 3-4 ریلوے ٹریک  پر کی۔ مین کے طور پر تعینات تھے۔ سونو کمار نے نیوز 18 کو وہ جگہ دکھائی جہاں عمر کی لاش ملی تھی۔ ایک دوسرے ریلوے ملازم جگدیش پرساد نے بھی سونو سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، یہ کیس پہلے سر قلم کرنے اور پھر لاش کو پھینکنے کا ہے۔

پرساد کہتے ہیں کہ کی-مین کے طور پر میں ایک سال اور گیٹ مین کے طور پر 10 سال سے کام کر رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ ریلوے ٹریک پر سر کس طرح جسم سے الگ ہوتا ہے۔ جس طرح لاش ملی ہے یہ ٹرین کے ذریعہ کٹی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ کسی نے اس کا سر قلم کر دیا ہے اور ریلوے ٹریک پر پھینک دیا ہے۔ اس کیس میں ٹرین کے گزرنے کے بعد جسم پر چوٹ کے نشان بھی اس قسم کے نہیں دکھ رہے ہیں۔ تاہم، یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ گئو رکشکوں کا کام ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں سیکشن 201 اور 302 کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز