الور سانحہ : جمعیۃ علما ہند کی کوششیں لائیں رنگ ، ہائی کورٹ نے متاثرین کی گرفتاری پر لگائی روک

راجستھان ہائی کورٹ نے زخمی پڑے ہوئے پہلو خان کے لڑکوں سمیت دیگر کی گرفتاری پر روک لگادی ۔

May 03, 2017 08:27 PM IST | Updated on: May 03, 2017 08:30 PM IST

جے پور/نئی دہلی : الور میں گائے کے نام پر خونی کھیل میں الٹے ہی متاثرین پر چل رہے مقدمہ میں آج جمعیۃ علماء ہند کو اس وقت بڑی راحت ملی ،جب راجستھان ہائی کورٹ نے زخمی پڑے ہوئے پہلو خان کے لڑکوں سمیت دیگر کی گرفتاری پر روک لگادی ۔ ہائی کورٹ جج ،جسٹس سبینا نے یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمودمدنی کی ہدایت پر داخل کردہ عرضی کی سماعت کے بعد سنایا۔جمعیۃ علما ء ہند نے الو ر ضلع عدالت کے ذریعہ فوری گرفتاری کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا یا تھا ۔ جمعیۃ کی طرف سے ایڈوکیٹ آزاد حاضر ہو ئے ، اس کیس کی اگلی سماعت 17 مئی کو ہو گی ۔

واضح ہو کہ گزشتہ یکم اپریل کو ایک مویشی میلہ سے گائے خرید کر لوٹ رہے پہلو خاں اور دیگر کو چند فرقہ پرست تنظیموں کے افراد نے گینگ بنا کر بڑی بے رحمی سے پیٹا تھا ، جس کے بعد پہلو خاں نے ہاسپٹل میں دم توڑ دیا جب کہ باقی افرا د بری طرح سے زخمی ہوئے ۔حالاں کہ اس سانحہ کو ایک ماہ سے زائد ہو گیا ہے ، لیکن اب تک پولس نے ان ملزمان کو گرفتار نہیں کیا کیا ہے جن کا نام باضابطہ کیس اسٹیٹ مین میں درج ہے۔ اس کے برعکس کاؤنٹر مقدمے میں سرعت دکھاتے ہوئے الو ر ضِلع عدالت نے ۱۸؍اپریل کو متاثرین کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیتے ہوئے ان کی ضمانت خارج کردی تھی ۔الور پولس نے متاثرین کے خلاف ایف آئی آر نمبر 252/17,253/17کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا ، جس میں عظمت خاں ، رفیق اور ارشاد خاں و عارف خاں ولد پہلو خاں کو ملزم بنا یا گیا تھا، ان پر آربی ایکٹ 5,8,9 کے تحت گؤ ہتھیا اور غیر قانونی طور سے گائے لے جانے کا الزام لگا یا گیا ۔ الو ر ضلع عدالت کے فیصلے کے بعد کئی طرح کے سوالا ت اٹھے تھے ، لوگوں میں اس کولے کر مایوسی تھی کہ عدالت نے زخمیو ں کے معقول علاج ومعالجہ کے حکم کے بجائے بستر پر لیٹے ہوئے ان متاثرین کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔تاہم اب جمعےۃ کی کوششوں کے بعدمتاثرین کے گاؤں جئے سنگھ پور میں لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔

الور سانحہ : جمعیۃ علما ہند کی کوششیں لائیں رنگ ، ہائی کورٹ نے متاثرین کی گرفتاری پر لگائی روک

جمعیۃ علماء ہریانہ ، پنجاب و ہماچل کے صدر مولانا یحیی کریمی نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ ضلع عدالت نے زخمی پڑے ہوئے افراد اور مقتول کے ورثاء کی ضمانت عرضی کو خارج کرنے میں جلدی دکھائی ، مگر دوسری طرف نامزد چھ ملزمان کی گرفتاری پر کوئی کاروائی نہیں کی۔انھوں نے کہا کہ جس دن یہ معاملہ ہو ا، اسی دن سے جمعےۃ علماء، متاثرین کے لیے کام کررہی ہے ، ہم نے اس سلسلے میں جمعےۃ علماء ہند کے رہنما ء حضرت مولانا محمود مدنی صاحب سے بات چیت کی تھی ،مولانا مدنی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ تک جائیں گے۔مولانا یحیے کریمی نے کہا کہ مولانا مدنی کی ہدایت پر مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کے ساتھ ایک وفد یہاں کا دورہ کرچکا ہے ، نیز الور میں مولانا حنیف صدر جمعیۃ علماء الور انصاف کے لیے ہر طرح کی کوشش کررہے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز