گائے کو قومی جانور قرار دینے کی تجویز دینے والے جج کا عجیب وغریب بیان ، مور کبھی سیکس نہیں کرتا

May 31, 2017 05:10 PM IST | Updated on: May 31, 2017 09:23 PM IST

جے پور : گائے کو قومی جانور قرار دینے کی تجویز دینے والے راجستھان ہائی کورٹ کے جج مہیش چندر شرما نے اب مور کو لے کر عجیب و غریب بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مور کو اس لئے قومی پرندے بنایا گیا، کیونکہ وہ (مور) برہم چاری ہے۔جسٹس مہیش چندر شرما نے سی این این نیوز 18 کو دیے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ 'مور برہم چاری جانور ہے اور وہ مورنی کے ساتھ کبھی سیکس نہیں کرتا ہے۔ مورنی تو مور کے آنسو پی کر حاملہ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بھگوان شری کرشن بھی اپنے سر پر مور کا پنکھ لگاتے تھے۔

اس سے پہلے بدھ کو جج جسٹس مہیش چندر شرما نے گائے کو قومی جانور اعلان کرنے کے لئے ریاستی حکومت سے کوشش کرنے کی سفارش کرتے ہوئے چیف سکریٹر ی اور ایڈوکیٹ جنرل کو گائے کاقانونی سرپرست مقرر کیا تھا۔ جاگو جنتا سوسائٹی کی طرف سے اس سلسلے میں دائر عرضی پر فیصلہ دیتے ہوئے جج نے کہاتھاکہ گائے کو آئین کی دفعہ 48 اور 51 اے (جی) کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہے جس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ گائے کو یہ حق ملنا چاہئے۔

گائے کو قومی جانور قرار دینے کی تجویز دینے والے جج کا عجیب وغریب بیان ، مور کبھی سیکس نہیں کرتا

جج موصوف نے کہا تھا کہ یہ دونوں افسران گایوں کی مناسب دیکھ بھال، تحفظ، افزائش اور قانونی حیثیت دلانے اور قومی جانور اعلان کرانے کے لئے مناسب قدم اٹھائیں گے۔ عدالت نے گائے کو مارنے والے کو دس سال کی سزا کے التزام کو بھی تبدیل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سزا عمر قید کی ہونی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز