اقلیتوں کے لئے عام بجٹ میں اضافہ پر ملاجلا ردعمل ، کسی نے استقبال کیا تو کسی نے بتایا ناکافی

Feb 01, 2017 10:31 PM IST | Updated on: Feb 01, 2017 11:41 PM IST

ممبئی : آج پارلیمنٹ میں پیش کردہ عام بجٹ کے دوران اقلیتوں کی بہبود کی مختلف اسکیموں کے بجٹ میں 395کروڑ روپے کے اضافہ پر ملاجلا ردعمل ردعمل سامنے آیا ہے۔حالانکہ مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور مختا رعباس نقوی نے اس کاخیر مقدم کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ کئی برس کے بعد اقلیتوں کے بجٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر اضافہ کیاگیا ہے۔اس اضافے سے اقلیتوں کے لئے بہبودی اسکیموں کو مزید کارگرطریقے سے نافذ کرنے میں کافی مدد ملے گی۔

مذکورہ اضافہ پراپنے ردعمل میں انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے خیر مقدم ضرورکیا ہے ،لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے اس میں مزید اضافہ کیاجانا چاہئے تھا اور یہ رقم ایک ہزار کروڑمختص کی جانی چاہئے تھی ۔انہوں نے کہا کہ اگر سابقہ رقم سے اضافہ شدہ رقم زیادہ ہے تو اس کے لیے مودی سرکار کا شکریہ ادا کیا جانا چاہئے۔کیونکہ اقلیتی اسکیموںمیں پیسے کی کمی کے سبب ان کے نفاذ کے لیے دشواری پیش آتی ہے۔

اقلیتوں کے لئے عام بجٹ میں اضافہ پر ملاجلا ردعمل ، کسی نے استقبال کیا تو کسی نے بتایا ناکافی

بی جے پی لیڈراور مائناریٹی محاذ کے چیئرمین فاروق اعظم نے 395کروڑ کی رقم بڑھائے جانے پر مودی حکومت کا شکریہ اداکیا اور کہاکہ وزیراعظم نریندرمودی کے ’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس ‘کے نعرے کا اثر ہے کہ گزشتہ 70سال میں اقلیتوںاور خصوصاً مسلمانوںکو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور اب انہیںان کے حقوق دیئے جارہے ہیں جوکہ ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپےل کہ آئندہ ہونے والے الےکشن میں مودی کی قیادت میں بی جے پی کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیںتاکہ انکی ترقی بھی یقینی بنائی جاسکے۔

بجٹ میں اقلیتوں کی اسکیموں کے لیے اضافہ کیے جانے کے اعلان پر ممبرایکزیکٹیو کونسل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آصف فاروقی نے اسے ایک لبھانے والا بجٹ قراردیا ،کیونکہ عین یوپی سمیت دیگر ریاستوں کے الیکشن پر پیش کیا گیاہے ۔ویسے یہ رقم انتہائی معمولی ہے کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں کی اسکیموں پر بھی خرچ کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر جائزہ لیاجائے توپتہ چلتا ہے کہ کمیشن اورکمیٹیوںکی رپورٹوںمیں مسلمانوں کو انتہائی پسماندہ قراردیا گیا اور صرف395کروڑروپے کی رقم بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہونا ہے۔اگر اس رقم کو ایک ہزارکروڑ کردیاجاتا تو مناسب ہوتا تھا۔

سابق کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین اور ایم آئی ایم کے رہنماءنظام الدین راعین نے اسے ایک لالی پاپ قراردیا ہے اور کہاکہ اس اضافہ سے مسلمانوںکا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ انہیں ان کی آبادی کے تناسب سے مزید رقم دینا چاہئے ۔دراصل یہ اضافہ بھی ریاستی انتخابات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے اور صدر ابوعاصم اعظمی نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ یہ سب ان ریاستوں کے انتخابات کے پیش نظر کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں چیف الیکشن کمیشن کو توجہ دینی چاہئے کہ عام بجٹ کے ساتھ ساتھ ریلوے کے لیے پیش کردہ بجٹ میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے اور سہولیات کا اعلان بھی کیا گیا ہے حالانکہ کمیشن نے پہلے ہی مرکزکو متنبہ کردیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز