مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری پر احمد پٹیل-روپانی کے درمیان سیاسی جنگ

Oct 28, 2017 10:30 AM IST | Updated on: Oct 28, 2017 10:30 AM IST

نئی دہلی۔ گجرات انتخابات سے ٹھیک پہلے بھڑوچ سے دو مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری پر گجرات کے وزیر اعلی وجے روپاني اور کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ احمد پٹیل کے درمیان سیاسی جنگ چھڑ گئی ہے۔مسٹر روپاني نے مسٹر احمد پٹیل پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بدھ کو بھڑوچ کے جس اسپتال سے آئی ایس کے دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، احمد پٹیل کا ان سے تعلق رہا ہے۔ وزیر اعلی نے کانگریس لیڈر کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پر صفائی دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملہ پر کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کو وضاحت کرنی چاہئے۔

ادھر مسٹر احمد پٹیل نے ان الزامات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ قومی سلامتی سے منسلک مسائل پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا-’ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ انتخابات کو دیکھتے ہوئے قومی سلامتی سے منسلک مسائل پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے‘۔ راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ احمد پٹیل نے اپنے دوسرے ٹوئٹ میں کہا- "امن سے محبت کرنے والے گجراتیوں کو دہشت گردی سے لڑنے کے نام پر تقسیم نہ کیا جائے۔ بی جے پی کی طرف سے عائد الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے میں اور میری پارٹی ہی دونوں ہی اے ٹی ایس کی کوششوں کی تعریف کرتا ہوں۔ گرفتار شدہ مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف میں سخت اور فوری کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں‘۔

مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری پر احمد پٹیل-روپانی کے درمیان سیاسی جنگ

گجرات کے وزیر اعلی وجے روپاني: فائل فوٹو۔

گاندھی نگر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مسٹر احمد نے اسپتال کے جدید تعمیر میں مدد کی تھی۔ وہ اسپتال کے ٹرسٹی بھی رہے تھے لیکن 2014 میں اس عہدہ سے استعفی دے دیا تھا۔ گجرات انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے بدھ کو آئی ایس کے دو مشتبہ لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے ایک شدت پسند قاسم ٹمبروالا کی شناخت انكلیشور کے اسپتال ملازم کے طور پر ہوئی ہے۔ وہیں دوسرا شدت پسند عبید پیشے سے وکیل ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز