بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازع کا حل تلاش کرنے کیلئے دو اکتوبر کو پنے میں گول میز کانفرنس

Sep 27, 2017 06:31 PM IST | Updated on: Sep 27, 2017 06:31 PM IST

نئی دہلی: اجودھیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی تنازع کاخوشگوار حل تلاش کرنے کے لئے دو اکتوبر کو بابائے قوم مہاتماگاندھی کی سالگرہ کے موقع پر پونے کی ایم آئی ٹی ورلڈ پیس یونیورسٹی کی طرف سے یہاں ایک قومی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر وشوناتھ ڈی کراڈ نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں یہ اطلا ع دیتے ہوئے بتایا کہ چھ دسمبر 1992 کے بعد سے سیاست کا شکار ہوجانے والے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازع کا حل سیاست سے ہٹ کر بین مذہبی مکالمہ کے ذریعہ خوشگوار طور پر حل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی کیوں کہ یہ مسئلہ سیاست سے حل ہونے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی نے اس سمت میں پہل کرتے ہوئے ایک ایسی تجویز تیار کی ہے جو ہندووں اور مسلمانوں دونوں کے لئے قابل قبول ہوسکتا ہے۔ اس تجویز پر گفتگو کے لئے دو اکتوبر کو گول میز کانفرنس طلب کی گئی ہے۔ کانفرنس میں دس یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر، معروف سائنس داں، مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ، سماجی کارکن، ماہرین تعلیم، مفکرین اور مسلم اور ہندو تنظیموں کے کئی نمائندے حصہ لیں گے اور تجویز پر اپنی رائے دیں گے او رتبصرے کریں گے۔ مسٹر کراڈ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ موضوع ہے جو 2010کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق تین فریقین کے درمیان 2.77ایکڑ متنازع زمین کی ملکیت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس زمین کے ار دگرد حکومت کے ذریعہ ایکوائر 67ایکڑ زمین سے بھی جڑا ہوا ہے جو پوری طرح خالی اور بیکار پڑی ہے۔

بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازع کا حل تلاش کرنے کیلئے دو اکتوبر کو پنے میں گول میز کانفرنس

انہوں نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی کی طرف سے تیار کردہ تجویز کے تحت اجودھیا میں متنازع اراضی کے پاس اسی 67ایکڑ زمین پر وشو دھرمی رام مانوتا بھون بنانے کی بات رکھی گئی ہے ۔ یہ ایک ایسی جگہ ہوگی جہاں ہندو ، مسلمان، عیسائی، بردھ ، سکھ ، پارسی، یہودی تمام مذاہب کے عبادت خانے بنائے جائیں گے ۔اس پر تقریباً دو سے ڈھائی کروڑ روپے خرچ آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فریق نہیں ہونے کے باوجود ان کی یونیورسٹی کی طرف سے اس پر ایک عرضی دائر کی ہے جسے عدالت نے تسلیم کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجویز کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں اور ممبران پارلیمنٹ کو بھی خط لکھ کر رائے طلب کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز