کانگریس میں نرم ہندتوا پالیسی کی شروعات، سنت مہنت اکائی کا قیام ، ایودھیا میں رام مندر بنانے کا اعلان

Jul 10, 2017 07:32 PM IST | Updated on: Jul 10, 2017 07:32 PM IST

ممبئی: ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی نے حال میں پارٹی سنت مہنت یونٹ تشکیل دینے کے بعد کانگریس پارٹی کے ذریعہ نرم ہندوتوا پالیسی اپنانے کے الزام پر مہر ثبت کردی بلکہ بھگوا کرن کی شروعات قرار دیا جارہا ہے۔اسکی وجہ سے ہے ، کانگریس پارٹی میں اس طرح کی شاخ تشکیل دینے سےاقلیتی فرقہ میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ممبئی کانگریس کمیٹی کے صدر سنجے نروپم نے کل ہند کانگریس کے مبصر موہن پرکاش کی ہدایت پر ممبئی کانگریس میں سنت مہنت اکائی قائم کی ،اوراس اکائی کا صدر سنت اوم داس کو مقررکیا گیا ہے ۔

صدر کاعہدہ سنبھالنے کے بعدسوامی اوم ناتھ نے اعلان کردیا کہ کانگریس اب ایودھیا میں رام مندر بنانے میں صف اول کا کردا ر نبھائے گی ،سوامی اوم داس جب کانگریس کے منچ سے رام مندر بنانے کا اعلان کر رہے تھے تب ممبئی کانگریس کے صدر سنجے نروپم ان کے بغل میں بیٹھے ہوئے تھے ،ممبئی کانگریس کے اس بھگوا کرن سے کانگریس میں اپنی پالیسی سے ہٹنے کی چرچہ شروع ہو گئی ہے،کانگریس پارٹی کے متعدد قائدین اور کارکنوں نے اعلی کمان کومکتوب بھیج کر یہ سوال کیا ہے کہ کیا پارٹی اپنے سیکولر شناخت چھوڑ نا چاہئے ۔

کانگریس میں نرم ہندتوا پالیسی کی شروعات، سنت مہنت اکائی کا قیام ، ایودھیا میں رام مندر بنانے کا اعلان

قابل ذکر بات ہے کہ کچھ مہینوں پہلے راہل گاندھی نے کانگریس کی اقلیتی طبقے کے تمام قائدین کی میٹنگ طلب کی تھی جس میں یہ وضاحت کر دی تھی کہ پارٹی اقتدار کے لیے اپنی پالیسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔کانگریس نےنرم ہندتوا صاف کہہ دیا کہ نرم اور سخت ہندتواکی بات نہیں ہے پارٹی اپنی سیکولر شناخت پر قائم رہے گی ایسے میں سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر کے پارٹی مبصر موہن پرکاش اور ممبئی کانگریس کے صدر سنجے نروپم نے کس کے کہنے پر کانگریس کا بھگوا کرن شروع کیا ہے۔

مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر اور قدآور قائد نسیم خان نے کہا ہے کہ پارٹی میں سنت مہنت اکائی قائم کرنا پارٹی کے دستور کے خلاف ہے۔کوئی بھی قائد شخصی طور پر مسلم ، ہندو ، سکھ ، اور عیسائی وغیرہ مذہبوں کے مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سن سکتا ہے انھیں حل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے یہ مذہبی شخصیتیں معاشرے کے رہنما ہیں اس لیے ان کا سیاسی استعمال غلط ہے۔ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوسکتا ہے۔جہا ں تک رام مندر اور بابےی مسجد کا مسئلہ ہے، وہ عدالت کے زیر سماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی اتر پردیش میں ستائیس سالوں سے اقتدار سے باہر ہے لیکن اقتدار حاصل کرنے کے لیے اس نے کبھی کسی مذہب کا استعمال نہیں کیا بلکہ اپنی سیکولر شناخت کو برقرار رکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ کانگریس میں اپنی پالیسی ہی سب سے برتر ہے۔مندر مسجد کی سیاست جن کو کرنی ہے وہ کرے لیکن کانگریس سب کی پارٹی ہے۔اس میں بھگوا کرن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کانگریس کی اقلیتی اکائی کے سابقہ قومی صدر عمران قدوائی نے کہا ہے کہ پارٹی کے دستور میں یہ کہیں نہیں ہے کہ سنت مہنت یا ملا مولوی کا شعبہ یا کوئی اکائی قائم کی جائے۔

مسلم پرسنل لاء کی مجلس عامل کے ممبر حافظ سید اطہرنےبھی ممبئی کانگریس کے فیصلہ پر حیرت کااظہار کیا اور کہاکہ یہ جلد بازی میں اٹھایاگیاقدم ہے ۔ اسے ووٹ بینک کی پالیسی قراردیاجاسکتاہے۔سنجے نروپم سے سبھی اچھی طرح واقف ہیں اور ایک مخصوص پارٹی کے ترجمان اخبار کے مدیر کی حیشیت دے انہوں نے اہانت آمیز باتیں شائع کیں اور مسلمانوں اور اسلام کی تعلیمات کا مبینہ طور پر مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ممبئی جمعیتہ علماء کے صدر مولانامستقیم اعظمی نے اس فیصلہ کو مسترد کردیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز