اقلیتی تعلیمی اداروں اور طلبا کے درمیان اسکالرشپ کی رقم کو لے کر تکرار

Jul 20, 2017 07:06 PM IST | Updated on: Jul 20, 2017 07:06 PM IST

 آکولہ۔ مہاراشٹر کے ودربھ میں اقلیتی طلبا کو ملنے والی اسکالر شپ کو لے کر نان گرانٹیڈ تعلیمی اداروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق طلبا کو اسکالر شپ سے کچھ حصہ تعلیمی اداروں کو دینا لازمی ہے۔ تعلیمی اداروں کے مطابق طلبا اسکالر شپ سے کالج فیس بھرنے میں بھی آنا کانی کر رہے ہیں۔ زیادہ دباو ڈالنے  پر پولیس میں شکایتیں درج کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سےغیر منظور شدہ تعلیمی اداروں کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اقلیتی طلبا کو ملنے والی اسکالرشپ کو لے کر نئی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ اسکالرشپ کی رقم کو لے کر طلبا اور تعلیمی اداروں کے درمیان آئے دن تکرار دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس معاملے میں مہاراشٹر کے آکولہ میں اے سی بی نے ملت جونیئر کالج کے پرنسپل سمیت دو افراد کو گرفتار بھی کیا تھا جنھیں بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا ۔ وکیل دفاع کے مطابق اقلیتی اداروں کے خلاف اس طرح کی کاروائی غیرقانونی ہے۔ وہیں اس واقعہ کے بعد آکولہ و اطراف کے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں نے ایک پلیٹ فارم پر آکر اس کاروائی کی مخالفت کی۔ اقلیتی تعلیمی اداروں نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد محکمہ تعلیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ  نان گرانٹیڈ تعلیمی ادارے اسکالرشپ سے کچھ فیصد رقم لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلبا کو بینک سے رقم نکالتے وقت کالج کا بونافائڈ سرٹیفکٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کالج فیس کو اسکالرشپ سے وصولنے  کے طریقے کو طلبا و سرپرست ہضم نہیں کرپا رہے ہیں۔ وہیں تعلیمی اداروں کا ماننا ہے کہ اگر نان گرانٹیڈ تعلیمی ادارے اسکالر شپ سے کالج فیس نہیں لیں گے تو اخراجات کیسے اٹھا پائیں گے؟ تعلیمی اداروں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پہل کرتے ہوئے تعلیمی اداروں اور طلبا کو الگ الگ اکاونٹ میں رقم دستیا ب کرائے۔

اقلیتی تعلیمی اداروں اور طلبا کے درمیان اسکالرشپ کی رقم کو لے کر تکرار

ری کمنڈیڈ اسٹوریز