اردوادب میں خواتین اورمردوں کومساوی طور پر پیش کرنے کی ضرورت

Sep 21, 2017 07:43 PM IST | Updated on: Sep 21, 2017 07:43 PM IST

ممبئی: ممبئی یونیورسٹی شعبہ اردو اور مہاراشٹر اسٹیٹ اردواکاڈمی کے زیراہتمام منعقد اردوادب میں خواتین کاحصہ کے موضوع پرسمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح طور پر کہاکہ اردوادب میں عورتوں اورمردوں کومساوی اندازمیں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور مساوی حقوق کے لیے خواتین کو جدوجہد کرنا ہوگا ۔ اس موقع پر صدارتی خطبہ دیتے ہوئے معروف ڈرامہ نگار اور اداکارہ نادرہ ببر نے کہاکہ خواتین کے استحصال کو روکنے اور ا ہیں حقوق دلا نے کے لیے ادب نے ہمیشہ اہم رول اداکیا،لیکن ابھی کافی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں مساوی حقوق حاصل ہوسکیں۔

انہوں نے طالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ وہ ادب واحترام کے دائرے میں رہ کر اپنی پسند اور ناپسند کادھیان رکھتے ہوئے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں۔ اس قبل معروف شاعرہ اور سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹر رفیعہ شبنم عابدی نے کہا کہ عورت کو مساوی درجہ ضرور ملناچاہیے۔لیکن اسے بے لگام نہیں ہوناچاہیے، اس کا معاشرہ پر برُا اثر پڑتا پے۔ رفیعہ شبنم عابدی نے اردوادب میں بہتر ین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین عصمت چغتائی، قرۃالعین حیدر، واجدہ تبسم اور پروین شاکرودیگر ادیبہ اورشاعرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ان فن کاروں نے معاشرے کی برائیوں اور گھٹن کو صفحات پر پیش کردیاہے۔

اردوادب میں خواتین اورمردوں کومساوی طور پر پیش کرنے کی ضرورت

رفیعہ شبنم کا کہنا ہے کہ مردوں پر منحصر رہنے کے بجائے خواتین ادیبہ کو ہی بہترطورپر اپنے بارے میں اور خواتین کے مسائل اور ان کی جدوجہد اور معاشرے میں درپیش مسائل کو پیش کرنا چاہئے ۔ اس موقع پر معززمہمان منور پیر بھائی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں خواتین کو جو حقوق مشرق میں حاصل ہوئے ہیں، اس کی وجہ انہیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں انہیں بہتر سے بہتر کرنے کاشعور حاصل ہوسکے۔ اس تقریب کے آغاز میں شعبہ صدر ڈاکٹر صاحب علی نے مہمانوں کا استقبال کیااورسمینار کے آغراض ومقاصد پیش کیے۔اردواکاڈمی ممبر فاروق سید نے اس سمینار کے انعقاد پرمبارکباد پیش کی۔اس موقع پر متعدد شرکاء نے مقالات پیش کیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز