وسیم رضوی کی تجویز بدبختانہ ، اجودھیا میں صرف بابری مسجد کی تعمیر ہونی چاہئے : مولانا ظہیر عباس رضوی

Nov 23, 2017 08:22 PM IST | Updated on: Nov 23, 2017 08:22 PM IST

ممبئی: اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے ممبر وسیم رضوی کے ذریعہ سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کر کے یہ تجویز پیش کرنا کہ اجودھیا میں رام مندر بننا چاہئے اور بابری مسجد لکھنؤ میں کسی ایسی جگہ تعمیر کی جائے جہاں پر مسلم آبادی ہو،ان کے اس بیان پر شیعہ اور سنّی دونوں حلقوں میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے،لیکن شیعہ فرقہ نے سب سے زیادہ برہمی کا اظہار کیا ہے اور شیعہ عالم دین مولانا ظہیر عباس رضوی نے ان کے بیان کو بدبختانہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اجودھیا میں متنازعہ مقام پر صرف بابری مسجدکی تعمیر کی جائے۔

وسیم رضوی کے بیان پر سنّی وقف بورڈ کے ممبران نے بھی اس بیان کی مذمت کی لیکن وسیم رضوی کے اس بیان کی وجہ سے سنّی اور شیعہ فرقوں کے تعلق سے غلط فہمی پیدا ہو گئی اور اس غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے اور آپسی بھائی چارہ بڑھانے کیلئے عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان نے ممبئی کے نامور شیعہ عالم دین سے فردا فردا رابطہ قائم کیا اور ان تمام لوگوں کی اس معاملے میں رائے جانی جس پر تمام شیعہ دانشور ان اور علمائے کرام نے ایک آواز میں کہا کہ وہ وسیم رضوی کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور شیعہ فرقہ سنّیوں کے ساتھ ہے۔

وسیم رضوی کی تجویز بدبختانہ ، اجودھیا میں صرف بابری مسجد کی تعمیر ہونی چاہئے : مولانا ظہیر عباس رضوی

مہاراشٹر وقف بورڈ کے ممبر اور نامور شیعہ عالم دین مولانا ظہیر عباس رضوی نے نہایت ہی سخت الفاظ میں شیعہ وقف بورڈ کے ممبر وسیم رضوی کی حرکت کو نازیبا قرار دیا اور کہا کہ ان کے خلاف جو مقدمات درج ہیں اسے ختم کرنے کیلئے وہ بی جے پی کی چاپلوسی کر رہے ہیں ان کے اس بیان کو ہر ایک شیعہ عالم دین اور دانشوروں نے مذمت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اجودھیا میں جس بے رحمی سے مسجد کو شہید کیا گیا تھا وہا ں پر صرف بابری مسجد ہی بننا چاہئے کیونکہ مسجد اللہ کا گھر ہے مسجد کی جگہ پر صرف مسجد ہی تعمیر ہونا چاہیئے انہوں نے آگے کہا کہ سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گا اسے سب جماعتیں قبول کریں گی۔

مشہور وکیل عباس کاظمی نے کہا کہ جو بیان وسیم رضوی نے دیا ہے وہ بدبختانہ ہے جس کی وجہ سے شیعہ اور سنّی میں نااتفاقی پیدا ہو سکتی ہے لیکن یہ بیان پوری شیعہ جماعت کا نہیں بلکہ ایک فرد واحد کا ہے انہوں نے کہا کہ مسجد کے معاملے میں وہ سنّی بھائیوں کے ساتھ میں ہیں اور اجودھیا میں مسجد بننے کی حمایت کرتے ہیں۔ ممبئی کے مشہوربزنس مین صفدر ایچ کرمالی نے اس معاملہ پر تمام شیعہ مسجدوں کے اماموں کی میٹنگ بلائی اور میٹنگ میں متفقہ رائے سے یہ فیصلہ کیا کہ جہاں پر مسجد تھی وہاں پر مسجد ہی تعمیر ہو اور سب مل کر وسیم رضوی کے بیان کی مذمت کی اور اس پر لعنت بھیجی۔ شیعہ عالم دین شیر محمد جعفری نے بہت ہی سخت الفاظ میں کہا کہ تمام مسلمان ایک ہیں اور کوئی بھی مسلمان مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کی بات کر ہی نہیں سکتا ہے اور جو ایسا کر رہا ہے وہ کیا مسلمان ہو سکتا ہے ؟۔ سب سے ا?خر میں تمام شیعہ عالم دین اور دانشوروں نے عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان کی کوششوں کی ستائش کی جنہوں نے شیعہ علما ء سے مل کر شیعہ اور سنّی کے درمیان میں خوشگوار ماحول بنایا۔شیعہ سنی اتحاد فرنٹ کے ذریعے بلائی گئی پریس کانفرنس میں نور بانو غوث ، شمشیر خان پٹھان ، ایڈوکیٹ عباس کاظمی ، مولانا روح ظفر ، مولانا عابدی ، صفدر ایچ کرمالی کے علاوہ دیگر اہم شخصیات موجودتھیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز