ممبئی میں شیعہ مسلم خاتون عالم دین کا مسجد میں خطبہ

ممبئی۔ مولانا محمد فیاض بکری کی بیوی ان خواتین میں شامل ہیں جو قرآن کریم کی تعلیمات سے دیگر مسلم خواتین کو درس دیتی ہیں۔

Aug 17, 2017 02:55 PM IST | Updated on: Aug 17, 2017 02:55 PM IST

ممبئی۔ مولانا محمد فیاض بکری کی بیوی ان خواتین میں شامل ہیں جو قرآن کریم کی تعلیمات سے دیگر مسلم خواتین کو درس دیتی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عورتوں اور مسلم عورت کوکئی معاملات میں مرد کے غلبہ سے لڑ نا پڑرہا ہے، شمال مغربی ممبئی کے ایک متمول علاقہ یاری روڈ میں ایک مسجد نے ایک اہم فیصلہ لیا ہے اوراس مسجد نے شیعہ خواتین کو علماء کا کردار ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے،جوکہ شہر میں پہلی مسجد کہی جارہی ہے ،حالانکہ عام طورپر مدراس اور درسگاہوں میں خواتین عصری اور دینی تعلیم دیتی ہیں۔ مذکورہ مسجد میں جمعہ کی نماز مولانا فضل الرحمن ہی پڑھاتے ہیں ، لیکن ایسی عورتیں بھی ہیں جو قرآن کریم کے بارے میں تعلیمات دیتی ہیں اور اسلامی تعلیمات کو فرقے کی خواتین کو پیش کرتی ہیں۔

مولانا محمد فیاض بکری کی بیوی عظمیٰ ایسی ایک خاتون عالم ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ’’جب آپ خواتین کو تعلیم دیتے ہیں، تو آپ ایک خاندان کو تعلیم دیتے ہیں اور جب آپ کسی خاندان کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ معاشرے کو تعلیم دیتے ہیں۔ یہ خواتین بہت سے مضامین کو سکھاتی ہیں، قرآن کریم کو کیسے سمجھ کر پڑھتے ہیں، بچوں کو کس طرح پڑھانے کے لئے، اور لڑکیوں کی تعلیم اور کس طرح ایک بہترانسان بننا ہے۔ وہ بنیادی طور پر اسلامی عقیدہ ’دین‘اوردنیا کے درمیان ایک توازن تلاش کرنے کی ضرورت پر مبنی ہے۔ وہیں، عظمیٰ کا کہنا ہے کہ وہ مسجد میں قران کی تعلیمات کے متعلق کلاس بھی لیتی ہیں اور ایسی لڑکیوں کوجن کی عمر 5 سے 15 سال ہوں،یہ سکھاتی ہیں کہ کیسے نماز پڑھنا چاہئے اور شریعت کے مطابق رہناچاہئے ۔

ممبئی میں شیعہ مسلم خاتون عالم دین کا مسجد میں خطبہ

ایک انگریزی روزنامہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل اسلامی مطالعہ برائے مذاکرات ڈاکٹر زینت شوکت علی نے اسے صحیح سمت میں ایک قدم قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا دیرپا اثر ہوگا ڈاکٹرزینت شوکت علی  تین طلاق شدہ خواتین کے حقوق کے لیے بھی جدوجہد کرتی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز