بابری مسجد پر وسیم رضوی کے بیان کی شیعہ علما اور اہم شخصیات نے کی مذمت ، بیان کو کیا خارج

جلد ہی اہل تشیع سے وابستہ تنظیموں کے دستخط شدہ میمورنڈم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو پیش کیا جائے گا

Nov 30, 2017 08:05 PM IST | Updated on: Nov 30, 2017 08:05 PM IST

ممبئی: اترپردیش وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کے اجودھیا میں واقع بابری مسجد کے سلسلے میں دیئے گئے بیان کی شیعہ فرقے کی اہم شخصیات نے سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس تعلق سے جلد ہی اہل تشیع سے وابستہ تنظیموں کے دستخط شدہ میمورنڈم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو پیش کیا جائے گا،کیونکہ گزشتہ ربع صدی سے مسلم پرسنل بورڈ کی بابری مسجد تنازع میں سربراہی کررہا ہے جبکہ وسیم رضوی کے بیان سے ملک بھر کے شیعہ حضرات اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

آج یہاں مسلمس ایسوسی ایشن فار پیس اینڈہارمنی نے اہل تشیع کی مخْتلف شخصیتوں اور تنظیموں کے عہدیداروں کے ذریعے عیدمیلاد النبیؐ کے موقع پر اس سلسلہ میں ایک بیان جاری کیا ہے اور شہر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بینرس اور پوسٹر چسپاں کرکے وسیم رضوی کے بیان کی مذمت کی ہے۔مذکورہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ ہم بابری مسجد کے سلسلے میں اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کے بیان شدہ نظریے کی سخت مذمت کرتے ہیں ،ملک میں مذہبی انتشار پھیلا کر سیاسی کامیابی حاصل کرنے کا چلن عام ہوتا جارہا ہے جوکہ ملک اور معاشرے دونوں کے لیے اچھی علامت نہیں ہے جبکہ عدالت عظمیٰ کے حکم کو تسلیم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘ان بینرس پر شیعہ عالم دین مولانا احمد علی عابدی اور مولانا ایس غلام عسکری کی تصاویر ہیں،جبکہ اہم شیعہ تنظیموں کے عہدیداروں اور شیعہ علماء کرام نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

بابری مسجد پر وسیم رضوی کے بیان کی شیعہ علما اور اہم شخصیات نے کی مذمت ، بیان کو کیا خارج

شیعہ وقف بورڈ چیئرمین وسیم رضوی

ان میں امام جمعہ خوجہ مسجد مولانا احمد علی عابدی ،امام جمعہ امامیہ مسجد کرلا مولانا غلام عسکری ،صدرخوجہ شیعہ جماعت ممبئی صفدر علی کرمالی،ممبئی سبربن شیعہ جماعت کے صدر ڈاکٹرفخرالحسن رضوی ،مسلمس ایسوسی ایشن فار پیس اینڈ ہارمونی کے صدرعباس رضوان خان ،مسلم ایسوسی ایشن کے نائب صدور مولانا علی عبی ،صفدرپنچوانی ،ایس واصی رضوی سابق اسسٹنٹ کمشنر کسٹم اور جنرل سکریٹری ایسوسی ایشن ،سوشل ورکر عرفان آغاشیرازی ،فیروز علی جعفری ٹرسٹی حیدری مسجد جری مری ،اور زاہد ایچ رضوی شامل ہیں ۔

مسلمس فار پیس اینڈ ہارمونی کے صدرعباس رضوان خان نے مزید کہا کہ ممبئی میں اہل تشیع کی اہم شخصیات اور علماء کرام کے ذریعے ایک میمورنڈم تیار کرکے آل انڈیا مسلم لاء بورڈ کوبھیجا جائے گا کیونکہ بورڈ ربع صدی سے اس معاملہ کو دیکھ رہا ہے اور انہوں نے کہا کہ شیعہ علماء کرام اور شخصیات وسیم رضوی کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی وسیم رضوی کو ملک کے کسی ادارے اور تنظیم کی تائید وحمایت حاصل ہے۔انکا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں ہم پرسپریم کور ٹ کا فیصلہ تسلیم کرنا لازمی ہے۔اس معاملہ میں سبھی کی تائید حاصل ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز