اعظم گڑھ میں شبلی نعمانی کا قائم کردہ دارالمصنفین قوم کی توجہ کا محتاج: الیاس اعظمی

Apr 05, 2017 05:03 PM IST | Updated on: Apr 05, 2017 05:40 PM IST

ممبئی۔ ’’ اترپردیش کے شہر اعظم گڑھ کے مشہور ومعروف ادارہ دارالمصنفین کوعلامہ شبلی نعمانی نے دینی،علمی اورادبی تحقیق کے لیے تقریباً سوسال قبل قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں ہے ،لیکن فی الحال دوسرے مسلم اداروں اورتنظیموں کی طرح وہ بھی توجہ کا محتاج ہے۔ اس تحقیقی ادارے کو بچانے کے لیے قوم وملت کو کمرکس لینی چاہئے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ادارہ کے اعزازی فیلو ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی نے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے مسلمانوں میں بیداری کی ضرورت ہے کیونکہ مسلم قوم اب ایک بیدار قوم نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ دارالمصنفین کا شمار بیت الحکمت بغداد اور دائرۃ المعارف حیدرآباد کے بعد تیسرے مایہ ناز علمی وتحقیقی ادارہ میں ہوتا ہے جس کی داغ بیل 1914میں علامہ شبلی نعمانی نے ڈالی تھی۔ اس کے عظیم الشان علمی کارناموں کی بدولت اعظم گڑھ کا گمنام خطہ ہم رتبہ یونان وبغداد بن گیا۔

اس ادارہ نے اسلامی علوم وفنون ،سیرت وتاریخ ،کلام وعقائداور فلسفہ وادب وغیرہ متنوع موضوعات پر 250کتابیں اپنے رفقاء سے تحریر کروا کر شائع کیں اور جن کو علمی حلقوں میں سند اعتبارحاصل ہے۔ ڈاکٹر الیاس اعظمی نے کہا کہ ادارہ کا مقصد اسلامی تعلیمات پر ہونے والے حملوں کا علمی انداز میں جواب دینے کیلئے ایسے اہل قلم پیدا کیے جائیں جو علمی انداز میں تحقیق کے ذریعے نوجوانوں کو لکھنے پڑھنے کا سلیقہ سکھائیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حال کے چند سال میں مسلمانوں میں تعلیمی بیداری ضرور پیدا ہوئی ،لیکن کیونکہ مسلمانوں کی فطرت جوشیلی ہے ،اس لیے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت کوسوں دور ہے ۔ ہم نے جب سرٹیفکٹ حاصل کیے جب پروفیشنل کورسس کا دور تھا اور سرٹیفکٹ کی اہمیت ختم ہوکر رہ گئی ،اس لیے ملازمت سے محرومی ہاتھ لگی ۔پھر بھی قوم کو ہمت نہیں ہارنا چاہئے اور منصوبہ بند طریقے سے کام کرنا ہوگا۔

اعظم گڑھ میں شبلی نعمانی کا قائم کردہ دارالمصنفین قوم کی توجہ کا محتاج: الیاس اعظمی

ڈاکٹرالیاس اعظمی نے کہاکہ ایک صدی کا عرصہ گزرجانے کے باوجود دارالمصنفین نے اپنے معیار کو بچا کر رکھا ہے۔ یہ ادارہ ہمیشہ قوم کی مالی امداد سے قائم رہا اور اس کی شائع کردہ کتابوں سے ہونے والی آمدنی سے چلایا جاتا ہے۔ لیکن اب ملت کے اس ادارے کو بچانے اور قائم رکھنے کے لیے آگے آناچاہئے اور دینی ،علمی اور ادبی تحقیقی کام کے لیے کوشش کی جانی چاہئے،مالی فنڈ قائم کرکے اہم قدم اٹھانا چاہئے جس نے 100سال کے دوران 32فیلو اور چار ڈائریکٹر دیئے ہیں اور جس کے پہلے ڈائرکٹر مولانا سیّد سلیمان ندوی تھے۔جبکہ مولانا ابوالکلام آزاد،ڈاکٹر فخرالدین احمد ،ڈاکٹر ذاکر حسین ،سیدمحمود اور دیگر اہم مسلم شخصیات دارالمصنفین سے وابستہ رہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز