مہاتما گاندھی سے متعلق امت شاہ کے بیان کے سہارے شیوسینا نے بھوک ہڑتال پر شیوراج سنگھ کو گھیرا

Jun 12, 2017 09:21 PM IST | Updated on: Jun 12, 2017 09:21 PM IST

ممبئی : مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے بھوک ہڑتال پر جانے کے مسئلے کو لے کر ان پر نشانہ لگاتے ہوئے شیوسینا نے کہاہے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کسانوں کی تحریک ختم کرنے کے لئے گاندھی وادی طریقے کا سہارا لیا، جبکہ ان کی اپنی پارٹی کے صدرامت شاہ نے مہاتما گاندھی کو ’چتر بنیا‘ کہا تھا۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنامیں چھپے اداریہ میں کہا کہ وزیر اعلیٰ کاکام حکومت کرنا ہوتا ہے، بھوک ہڑتال پر بیٹھ جانا ہندوستانیوں کے خلاف ہو رہے ظلم سے لڑنے کے لئے مہاتما گاندھی کا ہتھیار تھا۔ آج اس ملک میں نہ تو برطانوی اور نہ ہی کانگریس راج کر رہی ہے۔

قرض معافی اور اپنی فصلوں کے لئے فائدہ مند قیمت کا مطالبہ کرنے والے کسانوں سے امن کی اپیل کرتے ہوئے چوہان ہفتہ کو غیر معینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے تھے۔ انہوں نے کچھ منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے اگلے دن انشن توڑ دیا تھا ،لیکن فساد سے منسلک سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو سخت انتباہ جاری کیا تھا۔ چوہان کے انشن سے ایک ہی دن پہلے یعنی جمعہ کو بی جے پی سربراہ امت شاہ نے رائے پور میں کہا تھا کہ مہاتما گاندھی ایک ہوشیار بنیا تھے، جنہوں نے آزادی کے بعد کانگریس کو تحلیل کرنے کی صحیح مشورہ دیا تھا۔

مہاتما گاندھی سے متعلق امت شاہ کے بیان کے سہارے شیوسینا نے بھوک ہڑتال پر شیوراج سنگھ کو گھیرا

سامنا نے اپنے اداریہ میں کہاکہ بی جے پی کے صدر تو مہاتما گاندھی پرمنفی تبصرہ کر رہے تھے، وہیں ان کی پارٹی کے سینئر لیڈر ان کی ریاست کے مسائل کو حل کرنے کے لئے گاندھی وادی طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں۔وزیر اعلی کا کام حکومت کرنا ہے۔بھوک ہڑتا ل جیسے قدم اٹھاتے ہیں۔

اداریہ میں کہا گیاکہ اس طرح کی حالت میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف وزیر اعلی کا بھوک ہڑتال پر چلے جانا گاندھی وادی خیالات کی جیت ہے، لیکن گاندھی جی، سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ناانصافی اور بے رحمی کے خلاف لڑنے کے لئے کسانوں کو تیار کیا اور برطانوی لوگوں کے سامنے چیلنج پیش کرنے کے لئے گاندھی وادی خیالات کا استعمال کیا، دیویندر فڑنویس حکومت پر طنز کرتے ہوئے شیوسینا نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کے انشن نے کم سے کم ان کسانوں کے لئے دکھ تو نظرآیا، جبکہ مہاراشٹر کے لیڈروں نے تو کسانوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

بی جے پی کی اتحادی شیوسینا نے کہاکہ کسانوں کی تحریک کو غیر سماجی عناصر کی تحریک قرار دے کر چوہان نے گندی سیاست کھیلنے کی کوشش نہیں کی۔ مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش دونوں ہی ریاستوں میں بی جے پی کی قیادت والی حکومتیں ہیں۔ دونوں ہی ریاستوں میں قرض معافی اور اپنی فصل کے فائدہ مند اقدار سمیت مختلف مطالبات کو لے کر کسان یکم جون سے احتجاج پر اترآئے تھے۔ تحریک کے کچھ دن بعد، کسانوں کے ایک گروپ نے دعوی کیا تھا کہ وزیر اعلی فڑنویس سے بات کے بعد ان کی تحریک واپس لی جارہی ہے۔ تاہم بعد میں کسانوں کے ایک اور دھڑے نے کہا کہ تحریک اب بھی جاری ہے۔مہاراشٹر حکومت نے اتوار کو کسانوں کے لئے قرض معافی کا اعلان کیااور اس کے بعد کسانوں نے اپنا احتجاج بند کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز