مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے شیوسینا لیڈر ادھوٹھاکرے کی ملاقات، قیاس آرائی کا بازار گرم

شیوسینا سربراہ ادھوٹھاکرے نے اپنے فرزند ادیتیہ ٹھاکرے کے ہمراہ آج دوپہر یہاں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے جنوبی ممبئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ملاقات کی

Nov 02, 2017 07:16 PM IST | Updated on: Nov 02, 2017 07:45 PM IST

ممبئی: شیوسینا سربراہ ادھوٹھاکرے نے اپنے فرزند ادیتیہ ٹھاکرے کے ہمراہ آج دوپہر یہاں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے جنوبی ممبئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ملاقات کی اور اس کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مہ گوئیاں شروع ہوچکی ہیں۔شیوسینا مہاراشٹر اور مرکز میں این ڈی اے میں شامل ہے ،لیکن حال میں دونوں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔حالانکہ شیوسینا نے اسے ایک خیرسگالی ملاقات قراردیا ہے مگر سیاسی مبصرین ملاقات کو 2019کے انتخابات سے منسلک کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ بیرونی سیاسی رہنماء اکثر شمال مغربی ممبئی کے باندرہ علاقہ میں ادھوکی رہائش گاہ ’ماتوشری‘ پر ان سے ملاقات کرتے رہے ہیں ،لیکن اس مرتبہ ادھواور ادیتیہ جنوبی ممبئی کے ہوٹل پہنچے جہاں ممتا کا قیام ہے۔ ممتا بنرجی نوٹ بندی سمیت کئی معاملات پر بی جے پی اورمودی حکومت سے نبردآزما ہیں۔ممتا گزشتہ روزسے ممبئی میں ہیں اور کل کولکتہ روانہ ہوں گے ،گزشتہ روز معروف صنعت کاروں اور بینکرس سے ملاقات کی جن میں مکیش امبانی سے انہوں نے ان کی عالیشان رہائش گاہ میں عشائیہ بھی کیا اور جنوری میں کولکتہ میں ہونے والے بنگال گلوبل بزنس سمٹ کا دعوت نامہ بھی پیش کیا۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے شیوسینا لیڈر ادھوٹھاکرے کی ملاقات، قیاس آرائی کا بازار گرم

شیوسینا نے ممتا بنرجی کی شاندار کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی تھی اورگزشتہ سال نوٹ بندی کے معاملہ میں ترنمول کانگریس سے ہاتھ ملا لیا تھا۔ادھوٹھاکرے یہ کہہ چکے ہیں کہ جب وزیراعظم مودی این سی پی سربراہ شردپوار سے ملاقات کرسکتے ہیں تو شیوسینا سنگین مسائل پر ممتا بنرجی سے ملاقات کرے گی تو کیا ہرج ہے۔ویسے بھی شیوسینا کے ترجمان ’سامنا ‘ میں پارٹی کے ایم پی اور مدیر سنجے راؤت بی جے پی کی پالیسیوں کی دھجیاں اڑاتے رہتے ہیں۔حال میں راوت نے اس بات کا اظہار خیال کیا ہے کہ ادھوٹھاکرے 2019انتخابات کے لڑنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ بی جے پی اتحاد کے ہمراہ الیکشن لڑا جائے یا اکیلے ہی قسمت آزمائی کی جائے۔

حیرت انگیز طورپرسنجے راوت کی ستائش کرتے ہوئے انہیں قیادت کے قابل قراردیا تھا اور 2014کے بعد سے حالات میں مکمل تبدیلی آچکی ہے۔بی جے پی نے اس قسم کے بیانات پر کافی ناراضگی ظاہر کی ہے اور شیوسینا کو اتحاد کا پاس رکھنے کی نصیحت کی ہے۔دوروز قبل ہی دیویندر فڑنویس سرکار نے تین سال مکمل کرلیے ہیں۔وزیراعلیٰ نے شیوسینا کو نصیحت کی ہے کہ وہ اقتدار میں رہتے ہوئے اپوزیشن کا رول ادا نہ کرے ۔ویسے فڑنوس نے یہ بھی کہا کہ دونوں پارٹیوں میں اندرونی طورپر کوئی کشیدگی نہیں ہے بلکہ ایسا سب کچھ بیرونی طورپر نظرآتا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز