اذان سے متعلق ٹویٹ پر چوطرفہ تنقید کے بعد سونو نگم نے دی صفائی ، کسی کو لگتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی تنقید کی ، تو میں معافی چاہتا ہوں

Apr 19, 2017 04:36 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 05:42 PM IST

ممبئی : اذان سے متعلق ٹویٹ کرنے کے بعد ٹوئٹر پر چوطرفہ تنقید کی زد میں آنے کے بعد معروف سنگر سونو نگم نے اس پر اپنی صفائی پیش کی ہے ۔ سونو نگم نے ایک پریس کانفرنس کرکے اپنا موقف پیش کیا ۔ سونو نے کہا کہ انہیں اب بھی یقین نہیں ہو رہا ہے کہ ایک چھوٹی سی بات کو اتنا بڑا بنا دیا گیا ۔ یہی نہیں انہوں نے اپنے اوپر ہو رہی چوطرفہ تنقید کی مخالفت میں اپنا سر بھی منڈوا لیا۔

سونو نگم نے کہا 'آج جب بہت سے لوگ انہیں مسلم مخالف بتا رہے ہیں ، تو یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایسے لوگوں کی سوچ کی دقت ہے، کیونکہ ان کے قریب ترین جو لوگ ہیں وہ سب کے سب مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص پر اس طرح کا الزام لگانا جو محمد رفیع کو اپنا باپ مانتا ہو، سراسر غلط ہے اور یہ ایسے لوگوں کی سوچ کی دقت ہے۔

اذان سے متعلق ٹویٹ پر چوطرفہ تنقید کے بعد سونو نگم نے دی صفائی ، کسی کو لگتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی تنقید کی ، تو میں معافی چاہتا ہوں

اذان سے متعلق اپنے ٹویٹ پر وضاحت پیش کرتے ہوئے سونو نگم نے کہاکہ 'ٹویٹ کو سمجھا نہیں گیا، صرف اس حصے کو اچھالا گیا، جس سے تنازع پیدا ہو، سونو نگم نے کہا کہ آج ہم یورپی ممالک جیسے بننے کی بات کرتے ہیں، لیکن کیا ہم ان کی طرح ہیں؟ کیا ہماری سوچ ویسی ہے؟ اظہار رائے کے حق کی بات کہی جاتی ہے تو کیا مجھے وہ حق نہیں ہے ...؟ ' سونو نگم نے کہا کہ میر صرف اتنا کہنا ہے کہ مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر ضروری نہیں ہیں، خواہ وہ مندر ہو، مسجد ہو یا گرودوارہ ہو۔

لاؤڈ اسپیکرز اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے سوال پر سونو نگم نے کہا کہ اگر کوئی مذہب کے نام پر تہواروں میں زور زور سے گانے بجا کر ناچ رہا ہے، لاؤڈ اسپیکربجا رہا ہے اور آتے جاتے لوگوں کو جانے کیلئے راستہ نہیں دے رہا ہے ، تو میرے لئے یہ غنڈہ گردی ہی ہے، اس سے پولیس کو بھی پریشانی ہوتی ہے۔ سونو نے کہا کہ لڑکے باہر شراب پی کر ناچ رہے ہوتے ہیں، مذہب کے نام پر فلمی گانے بجا رہے ہوتے ہیں، کیا یہ داداگیري نہیں ہے؟ دانشوروں کو اس بات کو سمجھنا چاہئے ،کیونکہ آپ کے بچے بھی تو اسی ماحول میں پرورش پا رہے ہیں ، آپ کو سمجھنا چاہئے کہ کیا آپ انہیں ایسا ماحول دینا چاہتے ہیں؟ ۔

سونو نگم نے کہا کہ اگر میرے الفاظ سے کسی کو یہ لگتا ہے کہ میں نے ان کے پیغمبر محمد صاحب کی تنقید کی ہے ، تو اس کے لئے میں معافی چاہتا ہوں، کیونکہ میرا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا۔ احمد پٹیل کی بات کا ذکر کرتے ہوئے سونو نگم نے کہا کہ میری بات کو انہوں نے بہت بہتر طریقہ سے کہا ہے کہ اذان ضروری ہے، لاؤڈ اسپیکرز نہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران سونو سے پوچھا گیا کہ وہ بال کیوں منڈوا رہے ہیں؟ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ میں یہ کسی کو نیچا دکھانے یا اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے نہیں کر رہا ہوں، نہ ہی میں کسی طرح کی کوئی مثال بننا چاہتا ہوں، میرے بال ایک مسلمان کاٹے گا۔ خیال رہے کہ مغربی بنگال کے مائیناریٹی یونائیٹڈ کونسل کے نائب صدر سید شاہ عاطف علی امام قادری نے سونو کے خلاف فتوی جاری کرکے کہا تھا کہ وہ سونو نگم کو گنجا کرنے والے کو 10 لاکھ روپے کا انعام دیں گے۔سونو نگم نے کہا کہ فتوے کے مطابق میں نے اب اپنا سر منڈوا لیا ہےاور میرا سر منڈنے والا ایک مسلمان ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز