ابوعاصم اعظمی کا جالنہ میں مسلم لڑکی کی عصمت دری کے ملزموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Jun 15, 2017 11:02 PM IST | Updated on: Jun 15, 2017 11:03 PM IST

ممبئی: آج یہاں مہاراشٹر ایس پی کے لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے الزام عائدکیاہے کہ جالنہ میں ایک 13 سالہ مسلم لڑکی کی عصمت دری کے بعد اس معاملہ میں ماخوذ ملزم کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور پولیس معاملہ کمزور کر نے کی بھی کوشش کر رہی ہے ایسی صورت میں متاثرہ کو انصاف نہیں ملنے کاامکان ہے ۔

انہوں نے اس لئے مطالبہ کیاہے کہ زانی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پولیس سیاسی دباؤ میں آکر کوئی کام نہ کرے اس قسم کا تحریری مطالبہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے کیاہے۔انہوں اس سلسلہ میں وزیر داخلہ مملکت کیسرکر ، ڈی جی پی ستیش ماتھر، اورنگ آباد رینج کے اعلی افسر و جالنہ کے اعلی افسران سے کیا ہے ۔

ابوعاصم اعظمی کا جالنہ میں مسلم لڑکی کی عصمت دری کے ملزموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

ابو عاصم اعظمی: فائل فوٹو

ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ منظم طریقہ سے پہلے تو لڑکی کی عصمت دری کی گئی اس کے بعد پولیس نے ملزم کے خلاف معاملہ درج نہیں کیا جس سے ناراض عوام نے احتجاج کیا اقلیتوں کے خلاف اس قسم کا رویہ ناقابل برداشت ہے جبکہ پولیس کے رویہ کے سبب یہاں کے لوگوں کے دلوں میں انصاف کے تئیں بے اطمینانی بھی پائی جارہی ہے ایسی صورت میں زانی سنتوش پسے کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔

ابوعاصم اعظمی نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس پر سیاسی دباؤ ہے اس لئے پولیس اس معاملہ کو کمزور کر سکتی ہے اس لئے اس معاملہ کی انکوائری اعلی سطح تک ہونی چاہئے تاکہ متاثرہ کو انصاف ملے ۔ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی عصمت دری پر پورے جالنہ میں غم وغصہ کا ماحول ہے اور یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی خطرہ پیدا ہوگیاہے اس لئے پولیس نظم و نسق کو بر قرار رکھنے کے اس معاملے میں ماخوذ ملزمین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے اور پولیس سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر اس معاملہ میں انصاف کو نافذ کرے ۔

ابوعاصم اعظمی نے اس معاملہ میں پولیس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر کسی لڑکی کی عصمت دری کی جاتی ہے تو پولیس کو فوری طور پر معاملہ درج کر لینا چاہئے لیکن بدقسمتی سے مسلم لڑکی کی عصمت دری میں پولیس نے یہ کام عوام کے احتجاج کے بعد کیا اس لئے یہاں کے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں خوف ہے کہ اس معاملہ کو پولیس کمزور کرسکتی ہے اس معاملہ کی نگرانی وزیر اعلی بذات خود کریں تاکہ متاثرہ کو انصاف مل سکیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز