ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں تشویش ناک حد تک گراوٹ ، اردو کا بھی برا حال

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں تشویشناک حد تک گراوٹ درج کی گئی ہے۔

Dec 14, 2017 11:02 PM IST | Updated on: Dec 14, 2017 11:09 PM IST

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں تشویشناک حد تک گراوٹ درج کی گئی ہے۔ دس سالوں میں بی ایم سی کے اسکولوں سے ایک لاکھ آٹھ ہزار بچے کم ہوئے ہیں۔ جبکہ گزشتہ تعلیمی سال میں بی ایم سی کے اردو اسکولوں میں 9 فیصد کے قریب گراوٹ درج کی گئی ہے۔برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کا تعلیمی بجٹ تین ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ ہے۔ بی ایم سی کی جانب سے معیار تعلیم کو بہتر بنانےکا دعوی بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بی ایم سی کی اسکولوں میں گزشتہ سال 10 فیصد داخلے کم درج کئے گئے۔

سب سے خراب حالت بی ایم سی کے ہندی اسکولوں کی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو مراٹھی میڈیم کی اسکولوں میں پڑھانے کے حق میں نہیں ہے۔ گذشتہ تعلیمی سال کی بات کی جائے تو اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے داخلے میں 9 فیصد کے قریب گراوٹ آئی ۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں تشویش ناک حد تک گراوٹ ، اردو کا بھی برا حال

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکول میں پڑھنے والے فی طالب علم پر پچاس ہزار سے زیادہ کی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ طلبہ و طالبات کو راغب کرنے کیلئے بی ایم سی 52 ضروری اشیا بھی فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود اکثروالدین اپنے بچوں کو بی ایم سی اسکول میں پڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ پرجا فاؤنڈ یشن کے اعداد و شمار کےمطابق ممبئی میں اردو ذریعہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی آدھی تعداد بی ایم سی کے اردو اسکولوں میں پڑھتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز